Al-Risala · October 1980 · page 36

ایک سوال اور اس کا جواب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶

ایک سوال اور اس کا جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی جس کا نام فاطمہ تھا۔ اس کے قبیلہ والوں کو ڈر ہوا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اسامہ بن زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت قریبی لوگوں میں تھے۔ چنانچہ لوگوں نے اسامہ سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرو کہ ہماری عورت کو چھوڑ دیا جائے۔ حضرت اسامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فاطمہ مخزومی کی معافی کی درخواست کی۔ یہ سن کر آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا ، آپ نے فرمایا: کیا تم اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے لئے مجھ سے سفارش کر رہے ہو (لا تکلمنی فی حد من حدود اللہ) اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور تقریر کرتے ہوئے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میری لڑکی فاطمہ چوری کرتی تو یقیناً میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ( والذی نفس محمد بیده لو ان فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت یدھا) چنانچہ اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد وہ تائب ہو کر ایک صالح خاتون بن گئی (بخاری و مسلم) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی ایک حد کو معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ پھر کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد لوگوں کو اتنی فراخ دلی کے ساتھ معاف کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالت میں کئے جانے والے جرم اور جنگی حالت میں کئے جانے والے جرم میں فرق ہے۔ عام حالات میں کوئی شخص جرم کرے تو اس کا جرم معاف نہیں کیا جا سکتا۔ مگر جنگ و مقابلہ کے دوران دشمن گروہ کے افراد جو جرائم کرتے ہیں وہ اس وقت معاف کر دیئے جاتے ہیں جب کہ مذکورہ فرد اطاعت قبول کر کے معافی کا طالب ہو۔ غیر جنگی حالات میں کیا ہوا جرم ’’حد‘‘ پر ختم ہوتا ہے اور جنگی حالات میں کیا ہوا جرم اطاعت اور درخواست معافی پر۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے دشمن صلح کی درخواست کریں تو اس کو قبول کرو، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ امان پا کر وہ دھوکہ دیں گے۔ حالاں کہ یہ صلح کی درخواست کرنے والے لوگ وہ تھے جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف بدترین قسم کے وحشیانہ جرائم کئے تھے:

و ان جنحو للسلم فاجنح لها وتوكل على الله اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس طرف جھک انہ هو السميع العليم - وإن يريدوا ان جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا يخدعوك فإن حسبك الله وهو الذي جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں تو أيدك بنصره و بالمؤمنين اللہ تمھارے لئے کافی ہے، وہی ہے جس نے اپنی نصرت (انفال ۶۱ - ۶۲) سے اور مومنین کے ذریعہ تم کو قوت دی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page