Al-Risala · October 1980 · page 37

دوسرے کی پردہ پوشی خود اپنی پردہ پوشی ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷

قطع تعلق کرنے والے سے تعلق جوڑ و۔ بھوکے کو کھانا کھلاؤ، پیاسے کو پانی پلاؤ۔ لوگوں کو بھلی بات بتاؤ اور بری بات سے روکو۔ آخر میں آپ نے فرمایا: (فإن لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا عَنْ خَيْرٍ) اگر تم ایسا نہ کرسکو تو اپنی زبان کو روکو اور کلمہ خیر کے سوا اس سے کچھ نہ نکالو)

دوسرے کی پردہ پوشی خود اپنی پردہ پوشی ہے

حضرت ابو ایوب انصاری رض نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ مگر بعد کو انھیں اس حدیث کے الفاظ کے بارے میں کچھ شک ہوا۔ اس کے سننے میں عقبہ بن عامر بھی شریک تھے جو مصر جا چکے تھے۔ حضرت ابوایوب انصاری نے اونٹ لیا اور مدینہ سے مصر کے لئے روانہ ہوئے۔ حضرت عقبہ بن عامر کے مکان پر پہنچ کر ان سے ملاقات کی اور کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بیان کرو جو تم نے مسلمانوں کی پردہ پوشی کے بارے میں سنی تھی۔ اس حدیث کے سننے والوں میں اب میرے اور تمھارے سوا کوئی باقی نہیں ہے۔ انھوں نے وہ حدیث ان کے سامنے دہرائی۔ حدیث یہ تھی : جو شخص کسی رسوائی کی بات پر دنیا میں ہون کی پردہ پوشی کرے گا خدا قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا (من ستر مؤمنافی الدنیاعلی خزیہ سترہ اللہ يوم القيامة، الادب المفرد)

جھوٹ بولنے والا منافق ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر پوچھا گیا : کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر پوچھا گیا : کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کوئی شخص ایک جھوٹ بات کہتا تھا تو اس کی وجہ سے وہ منافق ہو جاتا تھا۔ اور آج میں سنتا ہوں کہ تم میں سے ایک شخص اس طرح کی جھوٹ بات ہر روز دس بار کہتا ہے (ان الرجل كان يتكلم بالكلمة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فيصير بها منافقا واني لا سمعها من احدكم في اليوم عشر مرات (یعنی الکذب)

توجیہہ کے فرق سے بات بدل جاتی ہے

ایک صحابی دعا کرنے لگے تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : اللهم ارحمنی و محمد او لا ترحم معنا احدا (اے اللہ مجھ پر رحم کر اور محمد پر رحم کر۔ اور ہم دونوں کے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر) ایک شخص صحابی پر الزام لگانا چاہے تو کہہ سکتا ہے کہ رسول کے اصحاب ایک دوسرے سے بغض و حسد رکھتے تھے۔ ان کو یہ پسند نہ تھا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page