زبان پر قابو رکھیے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۸
زبان پر قابو رکھیے
قال ابو عمر بلغن عن سهل بن عبد الله التستري انه قال: ما احدث احد في العلم شيئا الاسئل عنه يوم القيامة فان وافق السنة سلم والا فهو العطب (جامع بيان العلم وفضله، جزء ثانی، صفحہ ۱۵۰) عبد اللہ تستری نے کہا۔ علم دین میں جو شخص کوئی نئی بات کہے گا تو ضرور اس سے قیامت میں اس کی بابت سوال ہوگا ۔ اگر اس کی بات سنت کے مطابق ہو تو وہ بچ جائے گا۔ ورنہ اس کے لئے ہلاکت ہے۔ زیادہ بولنا اچھی علامت نہیں قال نعيم بن حماد قال سمعت ابن عيينة يقول : اجسر الناس على الفتيا اقلهم علما (جامع بیان العلم و فضله، جزء ثانی، صفحہ ۱۶۵) ابن عیینینہ تابعی نے کہا: فتوی دینے میں سب سے زیادہ جری وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جو علم میں سب سے کم ہوں۔
جھوٹا الزام سب سے زیادہ سنگین جرم ہے
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا: آسمان سے زیادہ بھاری کیا چیز ہے۔ فرمایا: کسی بے گناہ پر جھوٹا الزام لگانا۔
برا وہ ہے جو اپنی زبان پر قابو نہ رکھے
عن اسماء بنت يزيد عن النبی صلی اللہ علیہ اسمار بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ وسلم قال : الا انبئکم بشرارکم قالوابلی یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں بتاؤں کہ تم میں اللہ قال المستأذن بالنميمة المفرقون بين برے لوگ کون ہیں۔ لوگوں نے کہا ہاں اے خدا کے الاحبة الباغون للبراء العيب (احمد) رسول۔ فرمایا وہ لوگ جو چغلی کرتے پھریں، اور دوستوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے والے اور بے عیب لوگوں میں عیب چاہنے والے۔
کم بولنا اخلاص کی علامت ہے
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے بہتر لوگ نہیں دیکھے ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی وفات تک صرف تیرہ مسئلے دریافت کئے جو سب کے قرآن میں موجود ہیں۔ (اما رایت تو معا كانوا خيرا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما سالوه الا عن ثلاث عشرة مسئله حتی قبض، كلہن فی القرآن) حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا: صحابہ ہمیشہ صرف وہی بات پوچھتے تھے جو ان کے لئے نفع کی بات ہو (قال ما كانوا يسألون الا عما ينفعهم)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues