Al-Risala · October 1980 · page 39

کم بولنا اخلاص کی علامت ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۹

اوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَ اسْ نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمھاری مُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ کو دیا کہ قائم رکھو دین کو اور اس میں تفرق نہ ہو مشرکین اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ کو وہ بات بہت گراں گزرتی ہے جس کی طرف تم ان کو مَنْ يُنِيبُ بلاتے ہو۔ اللہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے جس کو چاہتا ہے شوریٰ ۱۳ اور وہ اپنی طرف اسی کی رہنمائی کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔

اقامت کے معنی ہیں سیدھا کرنا ۔ قرآن میں یہی لفظ جھکی ہوئی دیوار کو سیدھا کر دینے کے معنی میں آیا ہے (کہف۷۷) تفرق کے معنی ہیں پھوٹنا ، جدا ہو نا۔ قرآن میں یہ لفظ ایسے موقع پر استعمال ہوا ہے جب کہ آدمی اصل شاہراہ کو چھوڑ کر کنارے کے ذیلی راستوں میں بھٹک جائے (انعام (۱۵۳) آیت میں الدین سے مراد توحید اور صرف ایک خدا کی عبادت کرنا ہے۔ یہی وہ دین ہے جو تمام نبیوں کو دیا گیا (وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحي اليه انه لا اله الا انا فاعبدون ، انبیاء (۳۵) مطلب یہ ہے کہ خدا نے تمام نبیوں کو ایک ہی دین دیا تھا اور وہ توحید کا دین تھا نہ کہ شرک کا دین ۔ اس لئے تم اسی دین توحید پر پوری طرح قائم رہو ، اس میں شاخیں نکال کر اپنی تو جہات کو ادھر ادھر نہ پھیرو ۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں جو حکم ہے وہ اقامت بمقابلہ عدم اقامت نہیں ہے بلکہ اقامت بمقابلہ تفرق ہے۔ یعنی مطلق طور پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ دین کو قائم کرو اور دین کو قائم کئے بغیر نہ رہو۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ” الدین “ کو قائم کرو اور ” الدین “ میں تفرق نہ کرو۔ مطلب یہ ہوا کہ خدا نے جو الدین (اصل دین) اتارا ہے صرف اسی کی اقامت اور پیروی میں لگو، ایسا مت کرو کہ اس اصل دین میں دوسرے دوسرے راستے نکال کر اس میں متفرق ہو جاؤ۔ تمھاری توجہ اصل دین پر لگے نہ کہ متفرق پہلوؤں میں بکھر جائے ۔ رمضان کے مہینہ کی ایک شام کو جب کہ راقم الحروف پیاس سے نڈھال ہو رہا تھا۔ میری زبان سے نکلا : کھانا بھی خدا کی کیسی عجیب نعمت ہے ، ایک دن بھی نہ ملے تو آدمی کا برا حال ہو جاتا ہے “ یہ سن کر ایک صاحب نے کہا : آج کل لوگ کمزور ہو گئے ہیں۔ ورنہ پہلے زمانہ میں ایک دن کیا چار چار دن لوگ بھوک کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page