کم بولنا اخلاص کی علامت ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰
کا لفظ اس میں محض اضافی تھا۔ مگر سننے والے نے اسی لفظ کو لے لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بات اپنے رُخ سے ہٹ کر غیر متعلق پہلو طرف مُڑگئی۔ موصوف اگر کھانے کے ”نفرت“ کے پہلو کو ابھارتے تو یہ کہی ہوئی بات کی اقامت ہوتی۔ جب انھوں نے ”ایک دن“ کے پہلو کو لے کر اس پر تقریر شروع کر دی تو انھوں نے گویا اصل بات سے تفرق کیا۔ وہ شاہراہِ کلام سے جدا ہو گئے ۔
اب ایک اور مثال لیجئے موجودہ زمانہ میں مسلمان تمام ملکوں میں کسی نہ کسی طاقت کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ کہیں کسی کی اقتصادی طاقت کا، کہیں کسی اکثریتی طاقت کا، کہیں کسی سیاسی اور فوجی طاقت کا۔ اس مسئلہ کا حقیقی حل صرف اعداد قوت (انفال (۶۰) ہے ۔ یعنی مسلمانوں کا طاقت ور ہونا۔ ظلم و زیادتی ہمیشہ بے طاقتی کی سزا ہوتی ہے اور اپنے آپ کو طاقت ور بنا کر ہی اس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ طاقت ور بنانے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو با شعور بنایا جائے، ان میں باہمی اتحاد پیدا کیا جائے، ان کو جدید فکری اور عملی قوتوں سے مسلح کیا جائے ۔ ان پہلوؤں سے تیار ہونے کا نام طاقت ور ہونا ہے اور جو قوم ان چیزوں میں طاقتور ہو جائے اس کے اوپر کوئی ظالم ظلم کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اس کے برعکس دوسرا طریقہ یہ ہے کہ احتجاج اور مطالبات کا لفظی طوفان برپا کیا جائے۔ جلسے جلوس کی دھوم مچائی جائے۔ تقریروں اور تجویزوں کا سیلاب بہایا جائے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض وقتی ہنگامے ہیں جن کا کوئی بھی واقعی فائدہ قوم کو نہیں ملتا۔ ان دونوں طریقوں میں سے پہلا طریقہ ملت کی اقامت کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ ملت کے مسئلہ سے تفرق کا۔ پہلا کام اصل کام ہے جب کہ دوسرا کام اصل کام کی نسبت سے غیر متعلق ہے، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے ملت کے محاذ سے متفرق ہونا ہے نہ کہ ملت کے محاذ پر جد و جہد کرنا۔
ان مثالوں سے اقامتِ دین اور تفرق فی الدین کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے۔ مذکورہ آیت میں ”الدین“ سے مراد وہ اصل دین ہے جو تمام نبیوں پر اترا۔ یعنی توحید۔ توحید سے مراد ہے _ اللہ کو تنہا خالق اور مالک اور معبود جاننا، اسی پر بھروسہ کرنا، اسی سے ڈرنا اور اسی سے محبت کرنا، اپنے تمام بہترین جذبات کو اسی کی طرف متوجہ کر دینا۔ اپنا سب کچھ صرف اللہ کو بنا لینا ۔ اللہ سے یہ وابستگی جب کسی کے اندر حقیقی معنوں میں پیدا ہوتی ہے تو وہی آدمی کی زندگی بن جاتی ہے۔ وہ اس کی پوری زندگی کو کچھ سے کچھ کر دیتی ہے۔ آدمی کا سوچنا، اس کا بولنا، اس کا عمل کرنا، اس کا لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا، اس کا مختلف حالات میں رد عمل ظاہر کرنا، سب اسی کے تابع ہو جاتے ہیں۔ آدمی اندر سے باہر تک پوری طرح خدا کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues