Al-Risala · October 1980 · page 41

کم بولنا اخلاص کی علامت ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱

الدین (توحید) کو اس طرح اپنے اندر سمونے کا نام اقامت دین ہے۔ یہ اقامت دین اولاً فرد کے اپنے اندر متحقق ہوتا ہے اس کے بعد حسبِ حالات اجتماعی زندگی میں ظاہر ہونا چلا جاتا ہے۔

اس کے مقابلہ میں تفرق فی الدین یہ ہے کہ اصل دین کے ارد گرد غیر متعلق بحثیں نکال کر اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا جائے۔ مثلاً اسلامی عقائد میں خود ساختہ کلامی بحثیں چھیڑنا ، اسلامی عبادات میں بطورِ خود مسائل وضع کر کے فقہی جھگڑے کھڑے کرنا ۔ اسلامی کیفیات پیدا کرنے کے نام پر نئے "روحانی" نصاب بنانا اور لوگوں میں اس کو رواج دینا۔ اسی طرح یہ بھی تفرق فی الدین ہے کہ "توحید" کے علاوہ دوسری دوسری چیزوں کو عنوان بنا کر تحریکیں چلائی جائیں ، مثلاً خدائی حکومت قائم کرنے کے نام پر، اسلام کی عظمت رفتہ کو واپس لانے کے نام پر ، خیر الامم کو اس کے مقام بلند کی طرف لے جانے کے نام پر، فساد فی الارض اور طاغوتی نظام کو ختم کرنے کے نام پر وغیرہ ۔ اقامت دین حقیقی معنوں میں موحد بننے کا نام ہے اور تفرق فی الدین کے نام پر دوسری چیزوں میں متفرق ہونے کا ۔ قدیم حاملین شریعت اسی قسم کے تفرق میں مبتلا ہو گئے تھے، چنانچہ ان کے بارہ میں کہا گیا : و ما تفرق الذین اوتوا الکتب الا من بعد اور اہل کتاب واضح دلیل آنے کے بعد بھی دین میں متفرق ما جاء وتهم البینة - وما امروا الا لیعبد را ہو گئے ۔ حالاں کہ ان کو یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء ویقیموا عبادت کریں دین کو اس کے لئے خالص کر کے ، باطل الصلوة ويوتوا الزکوة و ذلک دین القيمة ایک سو ہو کر ۔ اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں (البينة) اور یہی ہے درست دین۔

دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے خارجی ہنگامے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کی دنیا میں بسيرا لینے کا نام ہے۔ دین دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی فطرت کی اس سطح پر جینے لگے جس سطح پر خدا کی دوسری مخلوقات جی رہی ہیں۔ اس کا شعور اللہ سے مل جائے ۔ اس کی یادوں میں اللہ بسا ہوا ہو۔ اس کے پر شوق جذبات کا مرکز صرف اللہ بن جائے ۔ جب کوئی شخص خدا کو اس طرح پاتا ہے تو وہی اس کا مطلوب و مقصود بن جاتا ہے اور اس کی کی سرگرمیوں کا رخ تمام تر خدا کی طرف ہو جاتا ہے۔ اخلاق و معاملات میں وہ وہی کرنے لگتا ہے جو اس کا خدا اس سے چاہتا ہو، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ اپنے جذبات اور اپنی مصلحتوں کو اس کی خاطر قربان کر دینا پڑے۔ قرآن میں یہود و نصاریٰ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے : اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں ان سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں داخل کرتے۔ اور اگر وہ قائم کرتے تورات اور انجیل کو اور جو ان کی طرف ان کے رب کے پاس سے اترا تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے ، ان میں کچھ لوگ سیدھی راہ پر ہیں اور بہت سے ان میں برے کام کر رہے ہیں (مائدہ ۶۶ - ۶۵) اس آیت میں ایمان و

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page