کم بولنا اخلاص کی علامت ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۲
تعلق اتنا گہرا اور اتنا زندہ ہو کہ وہ اس کے اوپر مستقل نگراں بن جائے، پرسکون حالات ہوں یا جذباتی ہیجان کا وقت ہو، ہر حال میں وہ اللہ سے ڈرے اور ہر معاملہ میں وہ اس کی مرضی کا پابندر ہے۔
اقامت دین اصلاً انفرادی طور پر اللہ کے دین پر قائم ہونے کا نام ہے۔ مگر جب بہت سے افراد اللہ کے دین پر قائم ہو جائیں تو حالات کے بقدر اس کے اجتماعی نتائج بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک درخت ہو تو وہ صرف ایک درخت ہے اور بہت سے درخت ہوں تو ان کا باغ بن جاتا ہے۔ تاہم اجتماعی چیزیں اقامت دین کا بالواسطہ نتیجہ ہیں نہ کہ اس کا براہِ راست حکم۔
تفرق فی الدین کا مطلب دین سے الگ ہونا نہیں ہے بلکہ دین کی شاہراہ سے الگ ہونا ہے، اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے ۔ قرآن کی سورہ نمبر ۶ میں ارشاد ہوا ہے : " کہو، آؤ میں تم کو سناؤں وہ چیزیں جو تم پر تمھارے رب نے حرام کی ہیں۔ یہی کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ اور بے شرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔ یہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریق پر جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم کسی شخص پر اس کے تحمل سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے۔ اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار کا کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے تاکہ نصیحت پکڑو۔ اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے جدا کر دیں گی ۔ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچو (انعام ۱۵۳-۱۵۲)
اس سے معلوم ہوا کہ دین کی ایک شاہراہ ہے اور اس کے دائیں بائیں بہت سی پگڈنڈیاں نکلتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues