Al-Risala · October 1980 · page 7

رانا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۷

قیمت معاشی بربادی، سماجی ذلت اور جانوں کی ہلاکت کی صورت میں دینی پڑے گی۔ اسی طرح مثلاً ایک فرقہ کے لوگ اپنی عبادت گاہ میں سالانہ عبادت ادا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر دوسرے فرقہ کا گندا جانور چھوت کر عبادت گزاروں کی صف میں داخل ہو جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک تکلیف دہ بات ہے۔ لیکن اگر اس تکلیف کو برداشت کر لیا جائے تو صرف ایک وقتی اور معمولی واقعہ پر اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر اس کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کی جائے تو اس کے بعد ایسا فساد برپا ہو گا جو کتنی ہی بستیوں کو خاکستر بنا دے گا اور اتنے زیادہ نقصانات سامنے آئیں گے جن کی تلافی برسہا برس تک بھی نہ ہو سکے۔ ایک عبادت گاہ ہے۔ اس کے پاس سے دوسرے فرقہ کے لوگ باجا بجاتے ہوئے گزرے اور اس سے عبادت کرنے والوں کو تکلیف پہنچی۔ اگر اس کو برداشت کر لیا جائے تو وقتی تکلیف کے بعد صورت حال معمول پر آجائے گی۔ لیکن اگر عبادت کرنے والے اس پر بگڑ جائیں اور جلوس پر پابندی لگانے کی کوشش کریں تو اس کے جواب میں ضد اور عناد ابھرے گا جو بالآخر لڑائی اور فساد کی صورت اختیار کرے گا۔ جن لوگوں نے چند منٹ کے باجے کا سننا برداشت نہیں کیا تھا انھیں آگ اور خون کا منظر دیکھنے کو برداشت کرنا پڑے گا۔

آدمی بہت جلد اس کے لئے تیار ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھلائی کا حکم دے اور اس کو برائی سے روکے۔ کیوں کہ دوسروں کے ساتھ ایسا کرنے میں اس کی انا کے لئے تسکین ہے، اس سے نفس کو یہ لذت ملتی ہے کہ میں حق پر ہوں اور دوسرا میرے مقابلہ میں ناحق پر ہے۔ مگر بھلائی کا وعظ کہنا اور برائی سے روکنا صرف اس شخص کے لئے جائز ہے جو اس کے تقاضے کو اپنانے کے لئے تیار ہو۔ اور اس کا تقاضا تکلیفوں پر صبر کرنا ہے۔ جب بھی ایک آدمی دوسرے کو ٹوکے گا اور اس کے اوپر تنقید کرے گا تو لازماً ایسا ہوگا کہ وہ شخص برہم ہوگا۔ ایسے موقع پر ٹوکنے والے کو برف کی طرح نرم ہو جانا چاہئے۔ اگر وہ خود بھی اس کے جواب میں برہم ہو جائے تو وہ برائی سے ٹوکنے والا نہیں ہے بلکہ وہ ایک برائی کو دوسری برائی کرنے کا مجرم ہے جو خدا کے یہاں کسی حال میں قابل معافی نہیں۔

وعظ و نصیحت کے جواب میں پیش آنے والی تکلیفوں پر برہم ہونے سے وہی شخص بچ سکتا ہے جس نے وعظ و نصیحت کا کام تمام تر اللہ کی خاطر شروع کیا ہو۔ جس اللہ سے وہ دوسرے کو ڈرا رہا ہے جب وہ خود اس سے ڈر نے والا بن چکا ہے تو وہ ایسا کام کیوں کر سکتا ہے جو صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اللہ سے بے خوف ہو چکے ہوں۔ جو شخص انسانوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر بگڑتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ اپنے عمل کا بدلہ انسانوں سے چاہتا تھا۔ اور جب انسانوں کی طرف سے بدلہ نہیں ملتا تو وہ بگڑ گیا۔ مگر جو آدمی اپنے عمل کا بدلہ اللہ سے لینے کا امیدوار ہو وہ اس کی بالکل پروا نہیں کر سکتا کہ لوگ اس کے کام کی تعریف کر رہے ہیں یا تنقید۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page