Al-Risala · October 1980 · page 8

آپ مشتعل نہیں ہوئے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۸

آپ مشتعل نہیں ہوئے

سن ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کر رہے ہیں۔ صحابہ کو آپ نے یہ خواب بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ چھ سال کے بعد اب مکہ جانے اور حرم کی زیارت کرنے کا موقع ملے گا۔ اس خواب کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لئے روانہ ہوئے ۔ چودہ سو اصحاب بھی آپ کے ساتھ ہو گئے ۔ غدیر اشطاط کے مقام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش آپ کے سفر کی خبر پا کر سر گرم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ایک لشکر جمع کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔

کعبہ کی زیارت سے کسی کو روکنا عرب روایات کے بالکل خلاف تھا۔ مزید یہ کہ آپ اشارہ خداوندی کے تحت یہ سفر کر رہے تھے۔ مگر اس کے باوجود آپ اس خبر کو سن کر مشتعل نہیں ہوئے۔ آپ کے جاسوس نے بتایا کہ خالد بن ولید دو سو سواروں کو لے کر مقام غمیم تک پہنچ گئے ہیں تاکہ آپ کا راستہ روکیں۔ یہ خبر سن کر آپ نے یہ کیا کہ معروف راستہ کو چھوڑ دیا اور ایک غیر معروف اور دشوار گزار راستہ سے چل کر حدیبیہ تک پہنچ گئے تاکہ خالد سے ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ اس واقعہ کو ابن ہشام نے جن الفاظ میں نقل کیا ہے وہ یہ ہیں:

قال من رجل يخرج بنا على طريق غير طريقهم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کون شخص ہے جو ہم کو التي هم بها ۔ قال رجل انا يا رسول الله ۔ مثال ایسے راستہ سے لے جائے جو ان کے راستہ سے مختلف ہو۔ ایک فسلك بهم طريقا وعراً اجريل بين شعاب شخص نے کہا کہ میں اسے اللہ کے رسول ۔ چنانچہ وہ لوگوں فلما خرجوا منه وقد شق ذلك على المسلمين کو لے کر ایسے راستہ پر چلا جو سخت دشوار اور پتھر یلا تھا اور وافضوا الى ارض سهلة عند منقطع الوادي قال پہاڑی راستوں سے گزرتا تھا۔ جب لوگ اس راستہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للناس قولو استغفر طے کر چکے اور مسلمانوں کو اس پر چلنا بہت شاق گزرا تھا اور الله ونتوب اليه فقالوا ذلك ۔ فقال والله انها وہ وادی کے ختم پر ایک ہموار زمین میں پہنچے تو رسول اللہ صلی للحطة التي عن ضت علی بنی اسرائیل سلم اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ کہو ہم اللہ سے مغفرت یقولھا ( جزء ۳ صفحه ۴۷۵) مانگتے ہیں اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ لوگوں نے اسی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم یہی حطہ ہے جو بنی اسرائیل کو پیش کیا گیا تھا۔ مگر انھوں نے نہیں کہا۔

حطہ کا مطلب تو یہ اور بخشش ہے۔ اس صیر از ما موقع پر تو ہرڈ استغفار کرانا ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے بتائے ہوئے صابرانہ طرقی کار کا آدمی کو اس قدر زیادہ پابند ہونا چاہئے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے جو کمزوری یا جھنجھلاہٹ پیدا ہو اس کو بھی آدمی گناہ سمجھے اور اس کے لئے خدا سے معافی مانگے ۔ اس کو خدا کے طریقہ پر راضی رہنا چاہئے نہ کہ وہ ا۔ اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر خود ساختہ طریقے نکالنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page