آپ مشتعل نہیں ہوئے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۹
حدیبیہ کا مقام مکہ سے ۹ میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں آپ ٹھہر گئے تاکہ حالات کا جائزہ لے سکیں۔ حدیبیہ سے آپ نے خراش بن امیہ خزاعی کو ایک اونٹ پر سوار کر کے اہل مکہ کے پاس بھیجا کہ ان کو خبر کر دیں کہ ہم صرف بیت اللہ کی زیارت کے لئے آئے ہیں، جنگ کے لئے نہیں آئے ہیں۔ جب وہ مکہ پہنچے تو اہل مکہ نے ان کے اونٹ کو ذبح کر ڈالا اور خود حضرت خراش کو بھی قتل کرنے کے لئے دوڑے۔ مگر وہ کسی طرح بچ کر واپس آگئے۔ پھر آپ نے حضرت عثمان کو یہ پیغام لے کر مکہ بھیجا کہ تم لوگ مزاحمت نہ کرو، ہم عمرہ کے مراسم ادا کر کے خاموشی سے واپس چلے جائیں گے۔ اہل مکہ نے حضرت عثمان کو بھی روک لیا۔ پھر مکہ زن بن حفص پچاس آدمیوں کو لے کر رات کے وقت حدیبیہ پہنچا اور مسلمانوں کے پڑاؤ پر تیر اور پتھر برسانے لگا۔ مگر کو گرفتار کر لیا گیا۔ مگر اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کو بلا شرط چھوڑ دیا گیا۔ اسی طرح مقام تنعیم کی طرف سے ۸۰ آدمی صبح سویرے آئے اور عین نماز کے وقت مسلمانوں پر چھاپہ مارا۔ یہ لوگ بھی پکڑے گئے۔ مگر آپ نے ان کو بھی غیر مشروط طور پر رہا کر دیا ۔
اس کے بعد قریش سے طویل مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہوئی۔ مگر یہ صلح ظاہر مبینوں کے لئے سراسر قریش کی فتح اور مسلمانوں کی شکست کے ہم معنی تھی۔ مسلمان یہ سمجھے ہوئے تھے کہ وہ بشارت الہی کے تحت عمرہ کرنے کے لئے مکہ جا رہے ہیں مگر جو صلح ہوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط پر راضی ہو گئے کہ وہ عمرہ کئے بغیر حدیبیہ سے واپس چلے جائیں۔ اگلے سال وہ عمرہ کے لئے آئیں مگر صرف تین دن مکہ میں ٹھہریں اور اس کے بعد خاموشی سے واپس چلے جائیں۔ اس طرح کی ذلت آمیز دفعات مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے بالکل کافی تھیں۔ مگر آپ نے بظاہر شکست کے باوجود تمام دفعات کو منظور کر لیا۔
قریش نے اس موقع پر آپ کے ساتھ جو کچھ کیا آپ کو اشتعال دلانے کے لئے کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح آپ کو مشتعل کر کے آپ کی طرف سے کوئی جارحانہ اقدام کرا دیں تاکہ قریش کے لئے آپ سے لڑنے کا جواز نکل آئے۔ حرم کی زیارت سے روکنا یوں بھی عرب روایات کے خلاف تھا۔ مزید یہ کہ یہ ذوقعدہ کا مہینہ تھا جو عربوں میں حرام مہینہ شمار ہوتا تھا۔ اس میں جنگ ناجائز سمجھی جاتی تھی۔ اس لئے اہل مکہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے اوپر جارحیت کی ذمہ داری ڈال کر ان سے جنگ کی جائے۔ مسلمان اس وقت کم تعداد میں تھے۔ ان کے پاس سامان جنگ نہیں تھا۔ وہ مرکز مدینہ سے ڈھائی سومیل دور اور دشمن کے مرکز (مکہ) کی عین سرحد پر تھے۔ قریش کے لئے بہترین موقع تھا کہ آپ کے اوپر بھر پور وار کر کے آپ کے خلاف اپنے دشمنانہ حوصلوں کو پورا کر سکیں۔ اسی لئے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح آپ اشتعل ہو کر لڑ پڑیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شرارت کو نظر انداز کرتے رہے اور کسی طرح اشتعال کی نوبت نہ آنے دی۔
یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ حضرت ابو بکر کے سوا صحابہ کرام میں سے کوئی شخص نہ تھا جو یہ محسوس نہ کر رہا ہو کہ ہم ظالم کے آگے جھک گئے ہیں اور اپنے کو توہین آمیز شرائط پر راضی کر لیا ہے۔ قرآن میں جب اس معاہدہ کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues