آپ مشتعل نہیں ہوئے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۰
بارے میں آیت اتری کہ یہ فتح مبین ہے تو صحابہ نے کہا : کیا یہ فتح ہے۔ ایک مسلمان نے کہا : یہ کیسی فتح ہے کہ ہم بیت اللہ جانے سے روک دیئے گئے۔ ہماری قربانی کے اونٹ آگے نہ جا سکے۔ خدا کے رسول کو حد یہ یہ سے واپس آنا پڑا ۔ ہمارے مظلوم بھائی (ابوجندل اور ابو بصیر) کو اس صلح کے تحت ظالموں کے حوالے کر دیا گیا۔ وغیرہ۔ مگر اسی ذلت آمیز صلح کے ذریعہ خدا نے فتح عظیم کا دروازہ کھول دیا۔
یہ معاہدہ بظاہر دشمن کے آگے جھک جانا تھا۔ مگر حقیقتاً وہ اپنے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کا وقفہ حاصل کرنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے تمام مطالبات منظور کر کے ان سے صرف ایک یقین دہانی لے لی۔ یہ کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ اب تک یہ تھا کہ مسلسل حالت جنگ کی وجہ سے تبلیغ و تعمیر کا کام رکا ہوا تھا۔ آپ نے حدیبیہ سے لوٹ کر فوراً دعوت و تبلیغ کا کام عرب اور اطراف عرب میں تیزی سے شروع کر دیا۔ ابتدائی زمین پہلے تیار ہو چکی تھی۔ پرامن حالات نے جو موقع دیا اس میں دعوت کا کام تیزی سے پھیلنے لگا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اسلام قبول کرنے لگے۔ عرب قبائل ایک کے بعد ایک اسلام میں داخل ہونے لگے عرب کے باہر ملکوں میں اسلام کی دعوت پھیلائی جانے لگی۔ مشرکین مکہ کی طرف سے مامون ہو کر آپ نے خیبر کے یہودیوں کے خلاف کارروائی کی اور ان کا خاتمہ کر دیا۔ دعوتی سرگرمیوں کے ساتھ داخلی استحکام اور تیاری کا کام بہت بڑے پیمانہ پر ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صلح کے صرف دو سال بعد اسلام اتنا طاقت ور ہو گیا کہ قریش نے لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دئے۔ جس مکہ سے تو ہین آمیز واپسی پر اپنے کو راضی کر لیا گیا تھا اسی مکہ میں اس واپسی سے فاتحانہ داخلہ کا راستہ نکل آیا۔
آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ حریف کی طرف سے کوئی ناخوش گوار بات پیش آئے تو فوراً اُٹھتے ہیں اور اس سے لڑجاتے ہیں۔ اور جب بے فائدہ لڑائی کے نقصانات بتائے جائیں تو کہتے ہیں کہ ہم خود سے نہیں لڑے، ہمارے خلاف سازش کر کے ہم کو جنگ میں الجھا یا گیا۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ نہ لڑنا حقیقتاً اسی کا نام ہے کہ کوئی لڑنے نہ آئے تو آپ نہ لڑیں۔ نہ لڑنا یہ ہے کہ لوگ لڑنے آئیں پھر بھی آپ ان سے نہ لڑیں۔ لوگ آپ کو اشتعال دلائیں مگر آپ مشتعل نہ ہوں، لوگ آپ کے خلاف سازشیں کریں مگر اپنی خاموش تدبیروں سے آپ ان کی سازش کو ناکام بنا دیں۔ لوگ آپ کے خلاف اپنے دلوں میں دشمنی لئے ہوئے ہوں تب بھی آپ ان کی دشمنی کو عمل میں آنے نہ دیں۔ زندگی کا اصل راز حریف سے لڑنا نہیں ہے۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ لڑائی سے بچ کر اپنے آپ کو اتنا طاقت ور بنایا جائے کہ لڑائی کے بغیر محض دبدبہ سے حریف ہتھیار ڈال دے۔ جو لوگ مشتعل ہو کر لڑنا جاتیں اور خاموش ہو کر تباہی کرنا نہ جانیں ان کے لئے یہاں صرف بربادی کا انجام ہے۔ نا ممکن ہے کہ خدا کی دنیا میں وہ کامیاب ہوسکیں۔ کیسی عجیب بات ہے، جو کامیابی پیغمبر ص نے نہ ٹکرانے کی پالیسی اختیار کر کے حاصل کی اس کو ہم ٹکرانے کا طریقہ اختیار کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پھر بھی ہمارا یقین ہے کہ ہم رسول خدا کے امتی ہیں اور آپ ضرور خدا کے یہاں ہماری شفاعت فرمائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues