Al-Risala · October 1980 · page 11

حلفِ الفضول

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۱

حلفِ الفضول

زمانہ جاہلیت میں عرب کے کچھ لوگوں نے ایک باہمی معاہدہ کیا تھا جس کو حلف الفضول کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کا مقصد لوٹ کھسوٹ اور ظلم کو روکنا تھا۔ اس معاہدہ میں شریک ہونے والوں کے نام تھے فضل بن فضالہ، فضل بن وداعه اور فضیل بن حارث۔ چنانچہ انہیں کے نام پر اس معاہدہ کا نام حلف الفضول (فضل والوں کا معاہدہ) پڑ گیا۔ یہ معاہدہ ابتدائی بانیوں تک زندہ رہا۔ ان کے مرنے کے بعد صرف ان کا نام رہ گیا۔ زبیر بن عبدالمطلب نے اپنے بعض اشعار میں اس معاہدہ کا ذکر اس طرح کیا ہے (روض الانف از سهیلی) إِنَّ الفُضول تَحالفوا وتَعاهُدُوا ان لا يُقيم ببطن مكة ظالم امر عليه تعاهدوا وتوثقوا فالجار والمعترّ فيهم سالم فضل نامی افراد نے باہم معاہدہ کیا اور عہد باندھا کہ مکہ میں کوئی ظالم نہ رہنے پائے گا انھوں نے اس بات پر باہم عہد باندھا اور اقرار کیا۔ پس مکہ میں پڑوسی اور ضرورت سے آنے والا سب محفوظ ہیں واقعہ فیل کے بعد عرب میں ایک باہمی جنگ ہوئی جس کو حرب الفجار (حرام مہینوں میں کی جانے والی جنگ) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے بعد دوبارہ عرب میں بدامنی بڑھ گئی۔ اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ یمن کے قبیلہ زبید کا ایک شخص کچھ تجارتی سامان لے کر مکہ آیا۔ قریش کے ایک سردار عاص بن وائل سہمی نے اس کا سامان خریدا مگر اس کی مطلوبہ قیمت نہیں ادا کی۔ مذکورہ یمنی تاجر نے مکہ والوں سے فریاد کی۔ اس نے کچھ اشعار کہے اور ان کے ذریعہ عام لوگوں تک اپنی شکایت پہنچائی۔ اس واقعہ نے مکہ کے کچھ درد مند لوگوں کو چوکس کر دیا۔ زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر بنو ہاشم اور بنو تمیم کے لوگ عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے تاکہ صورت حال کے بارے میں مشورہ کریں۔ انھوں نے حلف الفضول کی از سرِ نو تجدید کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے باہمی عہد کے ذریعہ اپنے کو پابند کیا کہ وہ مظلوم کا ساتھ دیں گے اور ظالم سے اس کا حق دلا کر رہیں گے (تعاقدوا بالله ليكونن مع المظلوم حتى يؤدى اليه حقه اس عہد کے بعد وہ لوگ عاص بن وائل کے پاس گئے۔ اس سے مذکورہ شخص کا سامان چھینا اور اس کو اس کے مالک کے حوالے کیا۔

یہ معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی عمر میں ہوا تھا۔ وہ اگر چہ عربوں کا ایک معاہدہ تھا مگر آپ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اس کی بابت آپ کے یہ الفاظ سیرت کی کتابوں میں نقل کئے گئے ہیں : لقد شهدت في دار عبد الله بن جدعان حلفا میں عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں ہونے والے معاہدہ میں لودعيت به في الاسلام لا جبت تحالفوان يردو ا شریک تھا۔ اگر اسلام کے بعد بھی مجھے اس میں بلایا جاتا الفضول على اهلها وان لا يعن ظالم مظلوما تو میں ضرور اس میں شریک ہوتا۔ انھوں نے اس بات کا (سیرت ابن کثیر) عہد کیا تھا کہ وہ حقدار تک اس کا حق پہنچائیں گے اور یہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page