Al-Risala · October 1980 · page 12

حلفِ الفضول

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۲

کہ کوئی ظالم کسی مظلوم پر غالب نہ آ سکے گا۔

ابن ہشام نے اس میں بعض واقعات نقل کئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حلف الفضول کا ذہنی اثر بعد کے عربوں میں بھی باقی تھا۔ ولید بن عقبہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے بھتیجے تھے۔ حضرت معاویہ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ اسی زمانہ میں ولید بن عقبہ اور حضرت حسین بن علی رضہ کے درمیان ایک جائیداد کا جھگڑا ہوا جو کہ ذوالمر وہ نامی گاؤں میں تھی۔ ولید نے طاقت کے زور پر اس پر قبضہ کرنا چاہا۔ حضرت حسین نے فرمایا: احلف بالله لتنصفنّي من حقّی او لآخذنّ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم کو میرے حق کے معاملہ سیفی ثم لا قومنّ فی مسجد رسول اللہ صلی میں انصاف کرنا ہوگا ورنہ میں اپنی تلوار لوں گا اور اللہ علیہ وسلم ثم لأدعون بحلف الفضول مسجد نبوی میں کھڑا ہو جاؤں گا اور حلف الفضول کے نام پر پکارونگا۔

عبداللہ بن زبیر جو اس وقت وہاں موجود تھے انھوں نے بھی یہی بات کہی۔ انھوں نے کہا: میں بھی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حسین اس کے لئے پکاریں گے تو میں اپنی تلوار لوں گا اور ان کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا یہاں تک کہ ان کا حق ان کو دیا جائے یا ہم دونوں ایک ساتھ قتل ہو جائیں۔ یہ بات مسور بن مخرمہ نہری کو پہنچی تو انھوں نے بھی اسی طرح کہا۔ اسی طرح یہ بات عبدالرحمن بن عثمان تیمی کو پہنچی تو انھوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ جب ولید بن عقبہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے حضرت حسین کو ان کا حق ادا کر دیا (سیرہ ابن ہشام، جز رضا ول ، ۱۴۷)

اوپر کی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ بدامنی اور فساد کے مسئلہ کے حل کے لئے اسلام کا مصدقہ طریقہ حلف الفضول کا طریقہ ہے۔ یعنی معاشرے کے ذمہ دار افراد کا خدا کے سامنے عہد باندھ کر اپنے آپ کو اس کا پابند کرنا کہ جب کبھی کوئی ایسا واقعہ ہوگا کہ ایک شخص دوسرے شخص پر ظلم کر رہا ہو تو وہ فوراً دوڑ کر موقع پر پہنچیں گے مظلوم کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ بنائیں گے۔ وہ اپنی ساری قوت اور ساری کوشش صرف کر کے ظالم کو مجبور کریں گے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آئے اور مظلوم کو اس کا حق ادا کرے۔

آج ہر بستی میں یہ صورت حال ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستاتا ہے، کوئی کسی کو ذلیل کرنے پر تلا ہوا ہے، کوئی کسی کے اوپر جھوٹا مقدمہ قائم کئے ہوئے ہے۔ کوئی کسی کا مال ہڑپ کر لینا چاہتا ہے۔ غرض جس کو ذرا بھی کوئی طاقت یا موقع ہاتھ آتا ہے تو وہ اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ کمزور کو دبائے اور ظالمانہ طریقہ پر دوسرے کے حقوق کو غصب کرے۔ اس قسم کے واقعات ہر بستی میں اور ہر محلہ میں ہو رہے ہیں۔ مگر تمام لوگ غیر جانب دار بنے رہتے ہیں یعنی کہ ذمہ دار افراد بھی ان معاملاتی میں کوئی دخل نہیں دیتے ۔ کسی کو اگر اصلاح امت یا خدمت قوم کا شوق ہوتا ہے تو وہ جلسوں اور تقریروں کا مشغلہ شروع کر دیتا ہے۔ حالانکہ اصل کام مظلوموں کی عملی دادرسی ہے نہ کہ مظلوموں کے نام پر جلسہ کرنا اور اس میں الفاظ کے دریا بہانا۔ مظلوموں کے نام پر جلسہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص زخمی ہو جائے اور آپ اس کو اسپتال لے جانے کے بجائے ایک شان دار زخمی کانفرنس منعقد کرنے کے لئے دوڑ پڑیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page