جب لوگ پکار پر دوڑ پڑتے تھے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳
جب لوگ پکار پر دوڑ پڑتے تھے
اسلام سے پہلے عرب میں جو شعراء پیدا ہوئے ان کو جاہلی شعراء کہا جاتا ہے۔ ایک جاہلی شاعر اس زمانہ کے ایک عرب قبیلہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :
لا يسألون اخاهم حين يندبهم فى النائبات على ما قال برهانا یعنی ان کے بھائی پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے اور وہ ان کو مدد کے لئے پکارتا ہے تو وہ اس سے اس کی دلیل نہیں پوچھتے۔ بلکہ فوراً اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے عرب میں اس کو شرافت کی خاص پہچان سمجھا جاتا تھا۔ اسی زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص سے کچھ لوگوں کی دشمنی ہوگئی۔ ایک روز ان لوگوں نے اس شخص کو اکیلے میں پالیا۔ وہ لوگ دوڑے کہ اس کو مار ڈالیں۔ وہ آدمی بھاگا۔ بھاگتے ہوئے اس کو ایک بدو کا خیمہ ملا۔ وہ خیمہ میں گھس گیا اور کہا کہ مجھے بچاؤ۔ بدو عرب نے اس کو خیمہ کے اندر بٹھایا اور خود خیمہ کے دروازے پر تلوار لے کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے دشمن جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا : میں نے اس آدمی کو پناہ دی ہے، اب اگر تم اس کو پکڑنا چاہتے ہو تو پہلے تم کو میری تلوار کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مجھ کو ختم کرنے کے بعد ہی تم اس کو پا سکتے ہو۔
عباسی خلافت کے زمانہ میں ایک شخص نے بغاوت کی۔ اس کا نام بابک خرمی تھا۔ اس نے موصل کے علاقہ میں اپنی بڑی طاقت بنائی۔ خلیفہ معتصم بالله (۲۲۷۔ ۲۱۸ھ) نے اس کی سرکوبی کے لئے ایک بڑی فوج بھیجی۔ بابک خرمی جب مسلمانوں کے لشکر کے محاصرہ میں آکر تنگ ہوا تو اس نے یہ تدبیر کی کہ اس نے اس وقت کے رومی بادشاہ نوفل بن میکائیل (قیصر روم) کو ایک خفیہ خط بھیجا جو اپنی سلطنت کا بڑا حصہ کھو کر ترکی کے علاقہ میں مقیم تھا۔ بابک نے اس کو لکھا کہ معتصم باللہ نے اس وقت اپنی تمام فوجیں میرے مقابلہ پر روانہ کردی ہیں۔ بغداد اور سامرہ فوجوں سے خالی ہو گئے ہیں۔ تمھارے لئے بہترین موقع ہے کہ تم خلافت بغداد پر حملہ کرکے ان سے اپنی سابق سلطنت چھین لو۔ شاہ روم اپنی ایک لاکھ فوج کے ساتھ روانہ ہوا۔ سب سے پہلے اس نے زبطرہ پر شب خون مارا جو ترکی کی سرحد پر واقع تھا۔ وہاں کے مردوں کو قتل کیا اور بچوں اور عورتوں کو گرفتار کر کے لے گیا۔
یہ ۲۹ ربیع الثانی ۲۲۳ھ کا واقعہ ہے۔ ایک شخص زبطرہ کے حادثہ کی خبر لے کر معتصم باللہ کے پاس بغداد پہنچا۔ واقعات بتاتے ہوئے اس نے کہا کہ ایک عرب عورت کو رومیوں نے پکڑا اور اس کو کھینچ کر لے جانے لگے تو اس نے پکارا واعتصماه (ہائے معتصم) معتصم باللہ اس وقت مجلس طرب میں تھا۔ مگر
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues