Al-Risala · October 1980 · page 14

جب لوگ پکار پر دوڑ پڑتے تھے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۴

جیسے ہی اس نے یہ خبر سنی لبیک لبیک کہتا ہوا فوراً وہ اپنے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ میں اس وقت تک آرام نہیں کروں گا جب تک عرب خاتون کی مدد نہ کرلوں۔ وہ اپنے محل پر چڑھا اور اس کے اوپر کھڑا ہو کر پکارا الرحیل الرحیل (کوچ، کوچ) اس کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا اور کوچ کا نقارہ بجوادیا۔ لشکر اور سردارانِ لشکر گروہ در گروہ آکر اس کے ساتھ شریک ہوگئے ۔ وہ اس معاملہ میں اتنا سنجیدہ تھا کہ قاضی اور گواہ بلا کر اس نے وصیت لکھوائی کہ اگر میں جنگ سے واپس نہ آؤں تو میرا اثاثہ کس طرح تقسیم کیا جائے ۔

معتصم باللہ اپنے لشکر کے ساتھ زبطرہ پہنچا تو رومی وہاں سے بھاگ کر اپنے قلعہ بند شہر عموریہ جاچکے تھے۔ معتصم باللہ آگے بڑھا اور اپنی فوجوں کو لے کر رومی علاقہ (ترکی) میں داخل ہوگیا۔ اس نے عموریہ کا محاصرہ کر لیا۔ ۵۵ روز کے محاصرہ کے بعد رومی فوجوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ معتصم باللہ نے عموریہ کی تمام شاہی اور فوجی تعمیرات کو ڈھاکر زمین کے برابر کر دیا۔ قیصر روم نوفل نے بھاگ کر قسطنطنیہ میں پناہ لی۔ معتصم باللہ نے عرب خاتون کو رومی قید سے آزاد کرایا اور اس کو اس کے گھر پہنچا دیا۔ کسی معاشرہ میں ”فساد“ نہ ہونے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد مظلوم کی پکار پر دوڑ پڑیں۔ اس کے برعکس جہاں لوگوں کو مظلوم کی پکار سے دلچسپی نہ ہو، وہ صرف اس وقت بیان اور تقریر کا کرشمہ دکھانے کے لئے باہر آئیں جب کہ اس کے اندر اخباری اہمیت (نیوز ویلیو) پیدا ہو چکی ہو، ایسے معاشرہ میں ہر وقت فساد کے اسباب پرورش پاتے رہتے ہیں اور موقع پاتے ہی پھوٹ پڑتے ہیں۔ آج لوگوں میں انفرادیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ایک شخص خواہ کتنا ہی پکارے، کوئی اس کی مدد کے لئے نہیں دوڑتا۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی اس کی مدد کے لئے اپنے اندر کوئی تڑپ نہیں پاتے جو بے انصافی کے خاتمہ کے عنوان پر اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ لوگ ظلم اور بے انصافی کے نام پر تقریریں کرتے ہیں۔ مگر جب ایک واقعی مظلوم ان کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر پاتا ہے کہ ان مقرر لیڈروں کو اس کی مدد پر پہنچنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ موجودہ فرقہ وارانہ فساد کا کم از کم ایک جزئی سبب یہ بھی ہے۔ ایک مقام پر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو ستایا۔ اس نے اپنی قوم کے لیڈروں کو مدد کے لئے پکارا۔ مگر کوئی ایک شخص بھی اس کی مدد پر نہ اٹھا۔ اس واقعہ کا اس پر اس قدر شدید ردّ عمل ہوا کہ مسلمانوں سے اس کو نفرت ہوگئی۔ اس نے ایک سازش کر کے اپنے مقام پر ایک فرقہ وارانہ فساد کرا دیا۔ اور جب فساد کا ہنگامہ شروع ہوا تو اس کے دوران اس نے ان لوگوں کے گھر جلا ڈالے جن سے اس کو شکایت پیدا ہوگئی تھی۔ کسی معاشرہ کا سب سے بڑا فساد باہمی بے اعتمادی ہے اور انفرادی ظلم پر نہ دوڑنا معاشرہ کے اندر برائی پیدا کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page