بھیڑ کے درمیان سناٹا
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳
بھیڑ کے درمیان سناٹا
نمازیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر اللہ کے خوف سے جھکنے والے نظر نہیں آتے۔ دین کی خاطر بولنے والے بہت ہیں مگر دین کی خاطر چپ ہو جانے والا کوئی نہیں۔ ملت کو بربادی سے بچانے کے لئے ہر ایک مجاہد بنا ہوا ہے مگر فرد کو بربادی سے بچانے کے لئے کوئی بے قرار نہیں ہوتا۔ اپنی حق پرستی کو جاننے کا ماہر ہر ایک ہے مگر دوسرے کی حق پرستی کو جاننے کی ضرورت کسی کو محسوس نہیں ہوتی۔ چوک پر خدا پرستی کا مظاہرہ کرنے والوں کی ہر طرف بھیڑ لگی ہوئی ہے مگر تنہائیوں میں خدا پرست بننے سے کسی کو دلچسپی نہیں۔ اسلام کو مکمل نظام ثابت کرنے کے لئے ہر شخص زبان و قلم کا زور صرف کر رہا ہے مگر اسلام کے جس "جزئی نظام" کا تعلق اس کی اپنی ذات اور خاندان سے ہے اس کی اہمیت کو کوئی نہیں جانتا۔ خدا کے دین کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لئے ہر آدمی بے قرار ہے مگر خدا کے دین کو اپنی زندگی میں غالب کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔ جنت کی کنجیوں کے گچھے ہر ایک کے پاس ہیں مگر جہنم کے اندیشے سے تڑپنے کی ضرورت کوئی محسوس نہیں کرتا۔ دنیوی رونق والے اسلام کی طرف ہر شخص دوڑ رہا ہے مگر اس اسلام سے کسی کو دل چسپی نہیں جو زندگی میں آخرت کا زلزلہ پیدا کردے۔ انسانوں کی بھیڑ میں سناٹے کا یہ عالم شاید آسمان نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔
ایک عجیب بات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب میں جو یہودی علماء تھے وہ گویا اس زمانہ میں خدائی مذہب کے وارث تھے۔ ان کا مذہبی درجہ تمام لوگوں کے نزدیک مسلم تھا۔ انھوں نے اپنی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے آپ کو رد کر دیا۔ مگر ان کو معلوم نہ تھا کہ جس کو وہ رد کر رہے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو اللہ نے ان کی خدا پرستی کی جانچ کے لئے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو رد کر کے بظاہر حمایت دین کا کریڈٹ لے رہے تھے۔ مگر اللہ کے یہاں وہ اس بات کے مجرم بن رہے تھے کہ اپنے آپ کو انھوں نے گروہی تعصبات کے خول میں اتنا زیادہ بند کر لیا کہ سچائی ان کو اپنے اصلی روپ میں نظر نہ آسکی۔ مکہ کے لوگ دین ابراہیمی کے محافظ بنے ہوئے تھے۔ یہودی اپنے کو انبیائے بنی اسرائیل کا وارث کہتے تھے۔ مگر دونوں نے اسی انسان کا انکار کر دیا جو حضرت ابراہیم کے دین کو اور بنی اسرائیل کو دی جانے والی آسمانی کتابوں کو اس کی اصلی صورت میں ان کے سامنے پیش کر رہا تھا۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں جس طرح ہدایت کے مواقع رکھے گئے ہیں اسی طرح گمراہی کے راستے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ یہاں جو شخص حق کی آواز کو رد کرنا چاہے اس کو بآسانی ایسے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہیں جن کو بول کر وہ اپنے آپ کو جھوٹے یقین میں مبتلا کرلے۔ یہاں دین کی سچی دعوت کو نظر انداز کر کے بھی آدمی ایسے درودیوار پالیتا ہے جس کے سایہ میں وہ پناہ لے سکے۔ یہاں خدا کی پکار کی طرف سے اپنے کانوں کو بند کر کے بھی ایسی چٹانیں مل جاتی ہیں جو کسی کو یہ تسکین دے سکیں کہ اس نے اپنے لئے ایک مضبوط سہارا دریافت کر لیا۔ مگر جب پردہ ہٹے گا تو یہ چیزیں اتنی بے معنی ثابت ہوں گی جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues