انسانوں کی تین قسمیں
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۴
انسانوں کی تین قسمیں
ایمان کا اعلیٰ درجہ یہ کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہو۔ وہ اپنے معاملات میں اللہ کی طرف رجوع پڑے والا ہو۔ وہ اس طرح زندگی گزارے گویا وہ اپنے آپ پر خدا کی نگرانی قائم کئے ہوئے ہے۔ وہ خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی تمام نظر آنے والی طاقتوں سے زیادہ اس کا اندیشہ رکھتا ہو وہ خدا کے پاس ایسا دل لے کر پہنچے جو دنیا کی زندگی میں ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہا ہو۔ یہی اللہ کے مطلوب اور محبوب بندے ہیں۔ جب اللہ کی خاطر وہ دنیا کا تعب اٹھا کر آخرت میں پہنچیں گے تو ان کا رب ان کو خوش آمدید کہے گا اور فرمائے گا کہ ہرے بھرے باغوں والے جنتی مکانات میں داخل ہو جاؤ اور ہمیشہ وہاں رہو۔ یہاں تمھارے لئے وہ سب کچھ ہے جو تم چاہو۔ اور ہمارے اٹھارہ انعامات اس کے علاوہ ہیں (ق ۳۵- ۳۱)
دوسرے لوگ وہ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور عمل صالح کیا۔ تاہم ان سے کوتاہیاں بھی ہوئیں۔ ان کے ٹھیک کام میں برا کام بھی شامل ہوتا رہا۔ مگر اس کمزوری کے باوجود وہ ڈھیٹ نہیں بنے۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اللہ سے معافی مانگتے رہے اور بار بار اس کی طرف پلٹنے کی کوشش کرتے رہے۔ امید ہے کہ اللہ ان کو بھی اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے گا۔ وہ جب خدا کی طرف لوٹے تو خدا بھی ان کی طرف لوٹے گا۔ کیوں کہ وہ بخشنے والا اور مہربان ہے (توبہ ۱۰۳)
اس کے بعد تیسرا گروہ وہ ہے جس نے نفس پرستی، دنیا طلبی اور گھمنڈ کو اپنا دین بنایا۔ ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے لئے نہیں جئے ملکہ اپنے لئے جئے۔ انھوں نے آخرت کی فکر نہیں کی، بلکہ دنیا کی فکر کی۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ وہ خدا کی اخروی دنیا میں عزت کا مقام حاصل کر لیں۔ یہ اپنی ہستی کا نذرانہ پیش کرنا ہے بائبل میں اسرائیل کی ایک نیک بخت خاتون حنہ کا قصہ لکھا ہے۔ ایک بار وہ خدا سے دعا کر رہی تھی۔ وہ "دل ہی دل میں کہہ رہی تھی ۔ فقط اس کے ہونٹ ہلتے تھے۔ پر اس کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی"۔ اس وقت حنہ پر کچھ ایسی دوانگی کی کیفیت طاری تھی کہ عیلی کا ہن نے اس کو دیکھا تو اس کو گمان ہوا کہ وہ نشہ میں ہے۔ عیلی نے اس سے کہا کہ تو کب تک نشہ میں رہے گی اپنا نشہ اتار، مگر یہ نشہ کا معاملہ نہ تھا۔ حنہ نے جواب دیا : نہیں اے میرے مالک، میں تو غمگین عورت ہوں میں نے نہ تو نشہ پیا ہے پر میں نے خداوند کے آگے اپنا دل انڈیلیا ہے (۱۔ سموئیل ب)
اللہ نے انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ عبادت کی حقیقت عجز ہے۔ دنیا میں انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اللہ کے سامنے عاجز بن کر رہے۔ اس کی کوئی حاجت ہو تو اس کے لئے وہ اللہ سے گڑ گڑائے، کسی سے معاملہ کرنے تو اللہ کی خاطر صاحب معاملہ کے سامنے جھک جائے، کسی سے اختلاف ہو تو اللہ کے خوف سے اپنے کو انصاف کی رسی میں باندھ لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues