Al-Risala · October 1980 · page 2

قدرت کا سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲

دشمن کی زد سے اپنے کو بچا لیتا ہے۔

۵۔ ایک بہت چھوٹا کیڑا ہے، وہ اپنے حریف کیڑے کو ختم کرنے کے لئے بہت دلچسپ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنے حریف کیڑے کے جسم میں اپنا ڈنک چھپاتا ہے جو انجکشن کی سوئی کی مانند ہوتا ہے یعنی نکلیلا اور اندر سے سوراخ دار۔ وہ نہایت پھرتی سے اپنے بے حد چھوٹے انڈے کو اس کے جسم میں داخل کر دیتا ہے۔ یہ انڈا جو در اصل زندہ بچے کی ابتدائی صورت ہوتی ہے، اپنے میزبان جانور کے جسم کا اندرونی حصہ کھانا ر ہتا ہے، یہاں تک کہ وہ لا روا (چھوٹے بچہ) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اب یہ لا روا باہر نکلنے کے لئے زور کرتا ہے۔ میزبان جانور کے لئے یہ سخت ترین لمحہ ہوتا ہے مگر وہ ایک ایسے دشمن کے مقابلہ میں اپنے کو بے بس پاتا ہے جو خود اس کے پیٹ میں گھسا ہوا ہو۔ اس طرح لاروا اندر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان جانور کے جسم کو پھاڑ کر باہر آ جاتا ہے۔ یہ عمل اتنا شدید ہوتا ہے کہ اس کے بعد میزبان جانور کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

قدرت کے تربیت یافتہ حیوانات میں بچاؤ کے جو طریقے رائج ہیں وہی انسان کے لئے بھی پوری طرح کار آمد ہیں۔ انسان کے لئے بھی اپنے حریف کے مقابلہ میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ وہ براہ راست تصادم سے بچے اور کتر اکر نکلنے کی کوشش کرے ۔ حریف کو کبھی یہ محسوس کرنے کا موقع نہ دیا جائے کہ آپ اس کے دائرہ میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اگر حریف کا سامنا ہو جائے تو اس کے مقابلہ میں اپنے کو غیر فعال ظاہر کر کے اپنے کو اس کی زد سے ہٹایا جائے یا اپنے دائرہ میں سمٹ کر اس کو یہ احساس دلایا جائے کہ میری وجہ سے تمھارا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں۔ اسی کے ساتھ ایسی تدبیروں کا اہتمام کیا جائے جن کے ذریعہ ہنگامی حالات میں دشمن کا وار خالی دبا جا سکے ۔ اور اگر حریف کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہو تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ حریف کے اپنے جسم میں اس کا ایک عد و داخل کر دیا جائے جس کی غذا حریف کا جسم ہو۔ وہ اس کو خاموشی کے ساتھ کھا تا ر ہے، یہاں تک کہ اندر ہی اندر دشمن کا خاتمہ کر دے۔ جانوروں نے اپنے بچاؤ کے یہ اصول خود نہیں بنائے، وہ ان کو خدا نے سکھائے ہیں۔ ان طریقوں کو خدا وندی تصدیق حاصل ہے۔ پھر یہ کہ جانوروں کی دنیا میں اس قسم کی دفاعی تدبیر کسی بزدلی کی بنا پر نہیں ہیں بلکہ خالص حقیقت پسندی کی بنا پر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچ کر اپنی "خود تعمیری " کے عمل کو جاری رکھا جائے ۔ کوئی جانو ر چارہ کی تلاش میں جا رہا ہے۔ کوئی اپنے جوڑے سے ملنے کے لئے سفر کر رہا ہے ۔ کوئی اپنا گھر بنانے کی جد جہد میں مصروف ہے۔ کسی کو اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے لئے موقع در کار ہے۔ ایسی حالت میں اس کی اپنے دشمن سے مڈبھیڑ ہو جاتی ہے ۔ اب اگر جانور اپنے حریف سے لڑائی شروع کر دے تو اس کا اپنی تعمیر کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جانور حریف کے براہ راست تصادم سے گریز کرتا ہے، لایا کہ وہ مجبوراً اس میں گرفتار ہو جائے۔ وہ اپنے تعمیری کام کو جاری رکھنے کی خاطر تصادم سے بچ کر نکل جاتا ہے ۔ یہ طریقہ جو حیوانات جبلت کے تحت اختیار کرتے ہیں وہی انسان کو شعوری طور پر انجام دینا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page