Al-Risala · October 1980 · page 21

فسادات کا مسئلہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱

فسادات کا مسئلہ

فرقہ وارانہ فسادات کا مسئلہ ہمارے قائدین کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ پچھلے ۳۵ سال میں ہماری قیادت نے جس واحد مسئلہ پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے وہ یہی مسئلہ ہے۔ ہر بار جب کوئی فساد ہوتا ہے تو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تقریریں کی جاتی ہیں۔ بیانات جاری ہوتے ہیں۔ ریلیف فنڈ قائم ہوتے ہیں۔ غرض سرگرمیوں کا ایک طوفان امڈ پڑتا ہے۔ ان فسادات کے سلسلہ میں ہمیں جو کچھ کرنا ہے وہ اگر یہی ہو جواب تک ہوتا رہا ہے تو یہ کام اس ملک میں اتنے بڑے پیمانہ پر ہو چکا ہے کہ اب تک فسادات کا خاتمہ ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر عملی ضرورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ موجودہ کوششوں کی یہ ناکامی آخری طور پر ثابت کر رہی ہے کہ یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ اگر وہ اس کا حل ہوتا تو ۳۵ سال کی مدت کافی تھی کہ اس کا کوئی مفید مطلب نتیجہ برآمد ہو۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس معاملہ پر از سر نو غور کریں اور اپنے طریق عمل کو دوبارہ نئے ڈھنگ سے مرتب کریں۔ فسادات کا پس منظر ہمارے ملک میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں، عام طور پر ان کے آغاز میں ایک چھوٹا سا واقعہ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے واقعہ پر مبیت ناک فساد کا پیدا ہو جانا اتفاقاً نہیں ہوتا۔ اس کے تاریخی اور نفسیاتی اسباب ہیں۔ ہم خواہ اس کو مانیں یا نہ مانیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ پڑوسی قوم میں ہمارے خلاف مستقل طور پر ایک حریفانہ جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب تقسیم کی سیاست ہے۔ ملک کی تقسیم بجائے خود برادران وطن کو اشتعال کرنے کے لئے کافی تھی۔ مزید یہ کہ تقسیم اس ڈھنگ سے ہوئی کہ تقسیم ہو کر بھی بہت سے نازک مسائل غیر حل شدہ حالت میں باقی رہ گئے۔ اس طرح کے مختلف تاریخی اسباب ہیں جنھوں نے برادران وطن کو مسلسل طور پر ہمارے خلاف مشتعل کر رکھا ہے۔ گویا ایک لاوا ہے جو دلوں میں چھپا ہوا ہے اور کوئی موقع پاتے ہی اچانک پھٹ پڑتا ہے۔ مجھے تسلیم ہے کہ کوئی شخص معقول بنیادوں پر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ تقسیم کی تحریک خود بھی فرق ثانی کے کسی عمل کار عمل تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس دعوے کا عملی فائدہ کیا ہے ؟ اس قسم کے دعوے کی اہمیت اس وقت ہوتی ہے جب کہ کسی مسئلہ کا صرف منطقی تجزیہ کرنا مقصود ہو، آدمی کے حقیقی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ مگر جب کوئی معاملہ فوری زندگی کا معاملہ بن جائے تو ہر عقل مند آدمی کا یہ طریقہ ہے کہ وہ منطقی سلسلہ کو توڑ کر عملی پہلو کو سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے عملی اقدام کے بارے میں کوئی فیصلہ لے سکے۔ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بحث کو اگر لمبا کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم اپنے اقدام کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر سکیں گے اور اصل مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہے گا۔ چھری اگر خربوزہ کی سطح تک پہنچ چکی ہو تو اس وقت منطق کی عدالت میں چھری کو ملزم ٹھہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے وقت میں اپنے کو فریق ثانی کی زد سے ہٹانے کا سوال ہوتا ہے نہ کہ الفاظ کی دنیا میں فریق ثانی کو ذمہ دار ثابت کرنے کا۔ یہ ایک معلوم اور مسلمہ حقیقت ہے کہ کیجی منطقی تقاضے کے مقابلہ میں عملی پہلو زیادہ اہم ہوتا ہے، اور زیر بحث معاملہ میں صورت حال بلا شبہ یہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page