کہنے اور کرنے کا فرق
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۵
کہنے اور کرنے کا فرق
قرآن میں شاعروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کو وہ کرتے نہیں (شعراء ۲۲۶) شاعری کے طور پر بات کہنے کی یہ کمزوری کبھی خود اہل دین میں پیدا ہو جاتی ہے ۔ وہ دین و ملت کے بارے میں تقریریں کرتے ہیں اور کتابیں چھاپتے ہیں ، مگر دین ان کا حقیقی عملی فیصلہ نہیں ہوتا۔ " اے ایمان والو ایسی بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ۔ اللہ کے نزدیک یہ بات بہت ناراضی کی ہے کہ ایسی بات کہو جو تم کرو نہیں (صف ۳)
آدمی جب بولتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے منھ سے نکلے ہوئے الفاظ اس کی حقیقی عملی زندگی کا ایک اظہار ہوں ، جس طرح بھاپ ایک گرم پانی کا اظہار ہوتی ہے یا دھواں کسی جلتی ہوئی چیز کا ایک نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسا آدمی جب بولتا ہے تو وہ اپنے اندرون کو انڈیل رہا ہوتا ہے ، اس کے الفاظ عام معنوں میں صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ یہ اس کی اپنی ہستی ہوتی ہے جو لفظوں کی صورت میں ڈھل رہی ہوتی ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے الفاظ میں انتہائی واقعیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ مصنوعی تصویر کی خرابیوں سے پاک ہوتی ہے۔ اس کے بیانات میں کیمرہ کے فوٹو کی طرح حقیقی عکاسی کی شان آ جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ بولتا ہے وہ خود بھی وہی ہوتا ہے۔ اس لئے جب کسی انسان کو اس کے ساتھ عملی تجربہ پیش آتا ہے تو وہ اس میں کوئی تضاد نہیں پاتا۔ بولنے والا اگر اسٹیج پر اتنی ہمدردی کے الفاظ بول رہا تھا تو عملی تجربہ میں بھی وہ ملت کا ہمدرد ثابت ہوتا ہے۔ اگر وہ احتساب نفس پر وعظ کر رہا تھا تو موقع پڑنے پر وہ خود بھی اپنی ذات کا حساب لینے والا ثابت ہوتا ہے۔ اگر وہ عہد و پیمان کی پختگی کی تلقین کر رہا تھا تو جب امتحان کا وقت آتا ہے تو وہ خود بھی عہد و پیمان کو پورا کرنے والا ثابت ہوتا ہے۔ اگر وہ انصاف اور انسانیت کا پر چار کر رہا تھا تو عملی تجربہ میں وہ ایک ایسا شخص ثابت ہوتا ہے جو خود بھی معاملہ کے وقت انصاف اور انسانیت پر قائم رہنے والا ہو۔
اس کے برعکس دوسرا آدمی وہ ہے جس کا اسلام پر بولنا شاعروں جیسا بولنا ہو۔ اس کی زبان الگ ہوتی ہے اور اس کی عملی زندگی الگ۔ اس کی باتوں میں وہ گہرائی نہیں ہوتی جو صرف ایک مطابق واقعہ کلام میں ہوا کرتی ہے۔ اس کا کلام ایک قسم کی شاعری ہوتا ہے نہ کہ حقیقت بیانی۔ لکھنے یا بولنے کے وقت تو وہ " اسلامی نظر آتا ہے لیکن اگر کوئی نازک معاملہ پڑ جائے تو فوراً اس کی اصل ہستی ننگی ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ وہ شخص جس نے اسٹیج پر انسانیت کا وعظ کہا تھا ، عملی تجربہ میں وہ انسان کی صورت میں بھیڑیا ثابت ہوتا ہے۔ وہ جس ملت کی ہمدردی کی باتیں کر رہا تھا، حقیقی معاملہ میں اسی ملت کے ایک فرد کا دشمن بن جاتا ہے۔ وہ خوف خدا اور فکر آخرت کی باتیں کر رہا تھا مگر عملی تجربہ کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ اس کے سینہ میں ایک بالکل بے خوف دل ہے جس کو آخرت اور حساب کتاب کی مطلق کوئی فکر نہیں۔ شاعری والا اسلام موجودہ دنیا میں کسی کو کچھ فائدہ دے سکتا ہے۔ یہاں اسلامی مشاعرہ کی مجلسوں میں اس کو داد مل سکتی ہے۔ مگر ایسے اسلام کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہ ہوگی۔ خدا کو الفاظ سے نہیں حقیقت سے دل چسپی ہے۔ اس کو وہ شاعر مطلوب ہے جو آخرت کی پکڑ کے خوف سے اپنی شاعری بھول جائے۔ اس کو وہ ادیب مطلوب ہے جس کی بے نفسی اس کو اپنا قلم توڑنے پر مجبور کر دے۔ اس کو وہ زبان مطلوب ہے جو زبان رکھتے ہوئے خدا کی خاطر بے زبان ہو جائے۔
5 | [رسال فروری ۷۵۰]
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues