جو اپنے کو چھوٹا جانے وہی اللہ کے نزدیک بڑا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۸
جاہلانہ معرکہ آرائی میں جب ایک یہودی قبیلے کے لوگ دوسرے قبیلے کے ہاتھ قید ہو جاتے تو مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر اپنے دینی بھائیوں کو دشمنوں کے ہاتھ سے چھڑاتا اور اپنے اس عمل کے لئے تو رات کے احکام کا حوالہ دیتا۔ جن میں ایک یہودی پر دوسرے یہودی کی مدد کو لازم ہی قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے اور اس کے بعد خدا ورسول کا نام لے کر اس کی نماز جنازہ ادا کرے۔ قرآن میں اس طرز عمل کی بابت کہا گیا کہ یہ حکم خداوندی کے ایک جز کو مانتا اور حکم خداوندی کے دوسرے جز کا انکار کرتا ہے۔ کیوں کہ یہودی خدا کے اس حکم کو تو شوق سے لے رہے تھے کہ ملت یہود کے مظلوموں کی مدد کرو اور نگراسی خدا کے اس حکم کو وہ اپنی زندگی سے خارج کئے ہوئے تھے کہ ان راستوں پر مت چلو جو ملت کے اندر باہمی ٹکراؤ پیدا کرتے ہیں اور نتیجہ ملت کے افراد کو مظلوم بناتے ہیں ۔ قرآن میں اعلان کیا گیا کہ حکم الہی میں اس طرح کی تقسیم کسی کو اللہ کی نظر میں سزا کا مستحق بناتی ہے نہ کہ انعام کا۔ یہی صورت حال آج خود مسلمانوں میں جاری ہے اور نہ صرف کسی ایک ملک میں بلکہ تمام دنیا کی مسلم اقوام پر چسپاں ہوتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں حکومت کی سطح پر خلیفانہ گروہ بندیاں اور جماعتوں کی سطح پر "متحدہ محاذ" کی سیاست براہ راست طور پر وہی چیز ہے جس کی یہود کے سلسلے میں مذمت کی گئی ہے۔ آج ہر جگہ یہ حال ہے کہ مسلمان غیر مسلم قوموں یا غیر اسلامی طاقتوں کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑرہے ہیں۔ مسلم حکومتوں میں کوئی رڈسی کیمپ سے مل گیا ہے اور غیر روسی کیمپ میں شامل مسلم ملک پر چڑھائی کر رہا ہے اور کوئی امریکی کیمپ سے ملا ہوا ہے اور غیر امریکی کیمپ کے مسلم ملک کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ مسلم جماعتوں کا یہ حال ہے کہ کوئی جماعت سوشلسٹ عنا صر سے مل کر غیر سوشلسٹ مسلم جماعتوں کے خلاف بر سر پیکار ہے اور کوئی جماعت سیکولر عنا صر سے مل کر غیر سیکولر کیمپ کی مسلم جماعتوں کے خلاف تخریبی کارروائیاں جاری کئے ہوئے ہے۔ یہی حال ہمارے ملک میں، خاص طور پر الیکشن کے مواقع پر ہوتا ہے۔ کچھ مسلمان حکمراں سیاسی پارٹی سے مل کر اپوزیشن پارٹیوں اور ان سے اتخاذ کرنے والے مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیتے ہیں اور کچھ مسلمان اپوزیشن پارٹیوں سے مل کر حکمران پارٹی اور اس سے وابستہ مسلمانوں کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس جاہلی جنگ کے نتیجہ میں جب مسلمانوں کی بربادی سامنے آتی ہے تو ان میں سے ہر ایک ملی جہاد کے لئے دوڑتا ہے، ہر ایک امدادی کام میں دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔
ہمارے ملک میں ہونے والے فسادات کم ازکم دقتی سبب کی حد تک، اکثر نہیں انتخابی محاذ آرائیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ مسلمان ان مواقع پر غیر مسلم پارٹیوں کے ساتھ مل کر دو جہتوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک طرف "آوس" کا سیاسی محاذ ہوتا ہے اور دوسری طرف "خزرج" کا سیاسی محاذ۔ کچھ مسلمان ایک طرف کے محاذ میں شامل ہو جاتے ہیں اور کچھ دوسری پارٹیوں کے محاذ میں۔ اور پھر دونوں ایک دوسرے کو ہرانے اور نیچا دکھانے کے لئے اپنی ساری طاقت لگا دیتے ہیں۔ جب الیکشن کا معرکہ ختم ہوتا ہے تو وہ صرف جیتنے والوں کے لئے ختم ہوتا ہے۔ ہارنے والوں کے لئے وہ دوبارہ نئی صورت میں شروع ہو جاتا ہے۔ اب ہارے ہوئے لیڈر جتنی ہوئی پارٹی کو پے اعتبار ثابت کرنے اور اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے میدان میں نکل آتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہارے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues