Al-Risala · September 1980 · page 29

جو اپنے کو چھوٹا جانے وہی اللہ کے نزدیک بڑا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹

لیڈر جو کارروائیاں کرتے ہیں انھیں میں سے ایک فرقہ وارانہ فساد بھی ہے۔

اس لحاظ سے دیکھیے تو فرقہ وارانہ فسادات کے بعد مسلم قائدین کی طرف سے کہا جانے والا امدادی کام اور تلی جہاد براہ راست طور پر قرآن کے ان الفاظ کا مصداق ہے کہ افتومنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض (بقرہ ۸۵) یعنی خدا کے اس حکم کی تم کو پروا نہیں کہ تم اغیار کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی نہ کرو۔ اور جب جاہلانہ محاذ آرائی کے نتیجہ میں فساد رونما ہوتا ہے تو قرآن وحدیث کی تلاوت کرتے ہوئے اعانت مظلومین کے لئے نکل پڑتے ہو۔ یہ حکم خداوندی کی تعمیل نہیں بلکہ سستی لیڈری ہے۔ اور خدا کا انعام کسی کو خدا کے حکم کی تعمیل پر ملتا ہے نہ کہ لیڈرانہ کارروائیوں پر۔

کرنے کا کام

آج مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ فساد یا اغیار کی سازش نہیں ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فساد اور سازش کو ناکام بنانے کے لئے واقعی طور پر جو کچھ کرنا چاہئے وہ کسی طرح ان کے ذہن کے خانہ میں نہیں بیٹھتا۔ زندگی کے مسائل کا حل خدا نے سنجیدہ غور و فکر اور حقیقت پسندانہ پروگرام میں رکھا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس سے آج کے مسلمان آخری حد تک دور ہیں۔ وہ ہر دوسرے طریقہ پر بے پناہ سرمایہ اور طاقت خرچ کرنے کے لئے تیار ہیں مگر حقیقت پسندانہ طریقہ کو زیر عمل لانے کے لئے نہ ان کے پاس پیسہ ہے اور نہ وقت۔ آج ان کا حال وہی ہورہا ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا ط وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ط هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ اور اگر دیکھیں ساری نشانیاں یقین نہ کریں ان کو۔ اور اگر دیکھیں راہِ منور کی وہ نہ ٹھہرائیں اس کو راہ۔ اور اگر دیکھیں راہ الٹی اس کو ٹھہرائیں راہ۔ یہ اس واسطے کہ انھوں نے جھوٹ جانیں ہماری آیتیں اور مور ہے ان سے بے خبر۔

اور جنھوں نے جھوٹ جانیں ہماری آیتیں اور آخرت کی ملاقات ضائع ہوئیں ان کی محنتیں، ہی بدلا پائیں گے جو کچھ عمل کرتے تھے (ترجمہ شاہ عبدالقادر)

(اعراف ۱۴۷ - ۱۴۷)

جب آدمی جھنجھلاہٹ اور جذباتیت کا شکار ہو جائے تو صرف سطحی باتیں اس کی سمجھ میں آتی ہیں، کوئی گہری بات اس کو اپیل نہیں کرتی۔ یہی آج مسلمانوں کا حال ہے۔ حقیقت پسندانہ طریق کار کے حقی میں کتنے ہی کھلے کھلے دلائل دے دئے جائیں۔ مگر وہ ان کے ذہن کا جزو نہیں بنتے۔ وہ ایسے راستوں کی طرف تو تیزی سے دوڑتے ہیں جن کا آخری نتیجہ مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مگر ایسے راستے جو کامیابی کی طرف لے جانے والے ہوں، ان کو فلسفیانہ اور دور از کار کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک بے خبر انسان کی طرح وہ بھی اس دیوار سے ٹکراتے ہیں اور کبھی اُس دیوار سے۔ ان کی کوششیں اپنے نتیجہ کے اعتبار سے مسلسل بے قیمت ہوتی جارہی ہیں۔ مگر ان کی آنکھ کسی طرح نہیں کھلتی۔ نئے الفاظ ان کے پاس ہوتے ہیں، اور پُرانے طریقوں سے وہ مسلسل شکست اٹھا رہے ہیں۔ جب کوئی نئی قوم پیدا ہوتی ہے تو

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page