علم کی وپسی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۲
آخری نتیجہ تھی۔ ڈارون بذات خود اس عمل ارتقاء کو ایک خالق (Creator) کا منصوبہ سمجھتا تھا۔ مگر بعد کے مفکرین نے خالق کے تصور کو ڈارون کا ذاتی عقیدہ قرار دیا اور نظریہ ارتقاء کو الحاد کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ ان کے نزدیک اس دنیا کا خالق "ارتھا" تھا نہ کہ کوئی "خدا"۔
مارکس (۱۸۱۸-۱۸۸۳) وہ شخص ہے جس نے اس اصول تعلمیل کو انسان کی سماجی زندگی پر منطبق کیا اور کہا کہ انسانی سماج اور انسانی تاریخ بھی ایک ناگزیر مادی قانون کے تحت سفر کر رہے ہیں۔ سماجی سفر میں جدلیاتی عمل (Dialectical Process) کی کار فرمائی کا تصور اگر چہ اس نے ہیگل (۱۸۳۱ - ۱۷۷۰) سے لیا تھا جو اس عمل کے پیچھے ایک روحِ عالم (ورلڈ اسپرٹ) کو مانتا تھا۔ مگر مارکس نے روحِ عالم کے بجائے معاشی قوانین کو جدلیاتی عمل کا ہیرو قرار دیا اور اس طرح ہیگل کی تصوریت (آئیڈیلزم) کو خالص مادیت (مٹیریلزم) میں بدل ڈالا۔ اس طرح تقریباً ڈیڑھ سو سال کے مسلسل عمل سے وہ فکر بنا جس کو جدید الحاد کہا جاتا ہے۔ اس الحاد کا کہنا تھا کہ اب علمی طور پر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک کوئی خدا نہیں ہے بلکہ اسباب و علل (Cause and Effect) کا ایک طبعی قانون ہے۔ اسی طبعی قانون نے بے عمل کے بعد عالم کو بنایا۔ اسی قانون کے ذریعہ ارتقائی مراحل سے گزر کر انسان تیار ہوا۔ اور پھر یہی وہ قانون ہے جو سماجی عمل کے اندر کار فرما ہے اور انسانی سماج کو غیر ترقی یافتہ حالت سے ترقی یافتہ حالت کی طرف لے جا رہا ہے۔
مگر بیسویں صدی کے آتے ہی ان خیالات کی علمی بنیاد بالکل ڈھ گئی۔ اس صدی کے آغاز میں پلانک اور آئن سٹائن اور ہیزن برگ اور ڈیراک اور ردر فورڈ نے جو تحقیقات کیں اس کے بعد علم کا وہ پورا ڈھانچہ بدل گیا جس کے تحت مذکورہ ملحدانہ مفروضات قائم کئے گئے تھے۔ اب اصول تعلمیل کا وہ نظریہ بے بنیاد ثابت ہو گیا جس کو انیسویں صدی میں خدا کا علی بدل سمجھ لیا گیا تھا۔ برکلے کی تصوریت (آئیڈیلزم) سوریس کی معرونی کے بعد، فلاسفہ میں دوبارہ واپس آگئی۔
انیسویں صدی علی دنیا میں الحاد کی صدی تھی۔ یہی صدی ہے جس میں عالم فطرت کے بارے میں کثرت سے نئے حقائق دریافت ہوئے۔ یہ حقائق اگر چہ بذات خود مذہب سے متصادم نہیں تھے۔ مگر ملحد فلسفہ نے اپنے تعمیری اضافہ سے ان کے اندر الحادی عناصر ڈھونڈ لئے۔ اب ایک پورا نظام فکر ترتیب دیا گیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سائنسی دریافتوں نے مذہبی صداقت کی تردید کر دی ہے۔ اب انسان کو فکری یا علمی اعتبار سے مذہب کی کوئی ضرورت نہیں، وہ سب کچھ جو مذہب دیتا تھا یا جس کے لئے مذہب کو ضروری سمجھ لیا گیا تھا، اب انسان اس کو زیادہ بہتر طور پر سائنس کے ذریعہ حاصل کر سکتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں علمی طور پر اس دعوے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ بعد کی تحقیقات اور بعد کے تجربات نے ایک ایک کر کے ان تمام باتوں کی تردید کر دی جن کی امید سائنس سے قائم کر لی گئی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues