Al-Risala · December 1980 · page 41

ابراہیم کو ایثار

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱

ابراہیم کو ایثار

جدید اثری تحقیقات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ۲۱۰۰ ق م میں ہوئی۔ ۱۷۵ سال کی عمر پا کر آپ نے ۱۹۰۵ ق م میں انتقال فرمایا۔ آپ دریائے فرات کے کنارے واقع قدیم شہر ار(UR) میں پیدا ہوئے۔ اس علاقے کو پرانے زمانے میں بابل کہا جاتا تھا، اب اس کو عراق کہتے ہیں۔

حضرت ابراہیمؑ کی قوم سورج، چاند اور ستاروں کو پوجتی تھی، چنانچہ اس نے اس قسم کے تقریباً ہزار خدا بنا رکھے تھے، ان میں سورج اور چاند سب سے بڑے تھے مگر حضرت ابراہیمؑ کو اپنی قوم کے دین سے رغبت ہوسکی۔ انسانی بستیوں کے بگڑے ہوئے ماحول میں اپنے لئے کشش نہ پا کر آپ بستی سے باہر نکل جاتے اور تنہائیوں میں زمین و آسمان کے نظام پر غور کرتے، ماحول کے فکری دباؤ سے آزاد ہوکر جب آپ سوچتے تو آپ پر نئی حقیقتوں کے دروازے کھلتے ہوئے منظر آتے، آپ آسمان میں یہ نظر دیکھتے کہ چاند چمکتا ہے اور پھر ماند پڑ جاتا ہے، ستارے نکلتے ہیں اور پھر ڈوب جاتے ہیں۔ سورج روشن ہوتا ہے اور پھر رات کی تاریکی میں چھپ جاتا ہے۔ ان واقعات پر غور کرنے کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ چیزیں جو عروج و زوال کے قانون میں بندھی ہوئی ہیں وہ خدا نہیں ہو سکتیں، نہ خدا تو وہی ہو سکتا ہے جو عروج و زوال کی حد بندیوں سے اوپر ہو۔

یہ آپ کی ایثار و قربانی سے بھری ہوئی زندگی میں پہلا "ایثار" تھا۔ جوانی کی عمر میں آدمی تفریحات میں رہنا پسند کر رہا ہے مگر آپ نے خاموش تنہائیوں کو اپنا دوست بنایا۔ اس زمانہ کو آدمی بے فکری میں گزار دیتا ہے مگر اس کو آپ نے سنجیدہ سوچ بچار کی بے قراری کے حوالے دیا۔ اس عمر کو پہنچ کر آدمی مادی لذتوں اور دنیوی ترقیوں کی طرف دوڑتا ہے مگر آپ نے اپنی بہترین گھڑیوں کو حقیقت کی تلاش میں لگا دیا۔ آدمی کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے آبا و اجداد کے مذہب پر چل پڑے مگر آپ نے ایک انقلابی انسان کی طرح رواج کو چھوڑ کر سچائی کا اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ "جو ہو رہا ہے" کے مقابلہ میں آپ نے "جو ہونا چاہئے"، کو ترجیح دی۔ یہ بہت بڑا نفسیاتی ایثار تھا۔ ماحول کے خلاف کسی سچائی کو اختیار کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اس کے سوا سب کچھ چھوڑ دے، پرانے کو راضی کرلے۔ جب آپ نے یہ فیصلہ کیا تو اللہ نے اس کو اس طرح قبول فرمایا کہ آپ پر سچائی کی معرفت کے دروازے کھول دئے اور آپ کو اپنی پیغمبری کے لئے چن لیا۔ یہ خدائی کام آپ کے سپرد ہوا کہ آپ اپنے وقت کے انسانوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کر دیں۔

اس کے بعد آپ کے ایثار کا دوسرا شدید ترین دور شروع ہوتا ہے۔ آپ کے زمانے کا حکمراں نمرود (ارنو) خدائی بادشاہ بن کر لوگوں کے اوپر حکومت کرتا تھا۔ اس زمانہ کے دوسرے بادشاہوں کی طرح نمرود نے عوام میں یہ عقیدہ بٹھا رکھا تھا کہ اس کو حکومت کرنے کا خدائی حق حاصل ہے۔ وہ کہتا تھا کہ سورج سب سے بڑا معبود ہے اور نمرود کا خاندان اس معبود کا دنیوی مظہر ہے۔ سورج جس طرح آسمانوں پر "حکومت کرتا ہے، اسی طرح سورج کی اولاد ہونے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues

Printed page