Al-Risala · December 1980 · page 15

ابراہیم کو ایثار

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۵

کی وجہ سے اس کو یہ حق ہے کہ وہ زمین پر بسنے والوں کا حاکم بنے۔

اس اعتبار سے سورج چاند کی پرستش، اس زمانہ میں محض ایک اس توہماتی عقیدہ نہ تھی بلکہ وہ اس وقت کی سیاست کی اعتقادی بنیاد بھی تھی۔ موجودہ زمانہ کی سیاست کی نظریاتی بنیاد عوامی حاکمیت ہے، اس زمانہ کی سیاست کی نظریاتی بنیاد خدائی حق حکمراںی تھا اور یہ خدائی حق حکمرانی اس شاہی خاندان کے لئے مخصوص سمجھا جاتا تھا جو مفروضہ معبود کی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ حضرت ابراہیم کا گھرانا اس نظام میں خاص اہمیت رکھتا تھا کیوں کہ آپ کا باپ آزر [Terah] اس زمانہ کے بت سازی کے "کارخانہ" کا مالک تھا اور شاہی بت خانہ میں افسر اعلیٰ کا درجہ رکھتا تھا، وقت کے سیاسی نظام میں اس کو بہت اونچی سیاسی حیثیت حاصل تھی۔ اس کا عہدہ اس زمانہ کے لحاظ سے تقریباً وہی تھا جو آج کل کسی ایسی سیاسی پارٹی کے صدر کا ہوتا ہے جو کسی ملک میں حکمران پارٹی کی حیثیت رکھتی ہو۔ ان حالات میں حضرت ابراہیم کے لئے بنا بنایا کامیابی کا راستہ یہ تھا کہ وہ اپنے باپ کی جگہ بنالیں، وہ قائم شدہ نظام کا ساتھ دے کر اس میں اونچا مقام حاصل کرلیں۔ مگر آپ نے دوبارہ ایثار و قربانی کے راستہ پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنے باپ آزر سے صاف لفظوں میں کہا: کیا تم ستاروں کو خدا مانتے ہو اور ان کی شکلیں بناکر ان کو پوجتے ہو، یہ ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں تم کو اور تمھاری قوم کو دیکھ رہا ہوں (انعام ۷۴) حضرت ابراہیم نے اپنے وقت کے ستارہ پرستی کے نظام سے اپنے باپ کی طرح موافقت نہیں کی بلکہ وہ اس کے خلاف داعی اور مصلح بن کر کھڑے ہو گئے۔ جس نظام میں اعلیٰ ترین عہدہ ان کا انتظار کر رہا تھا وہ خود اس نظام کو بدلنے کے علم بردار بن گئے۔ انھوں نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ ناحق کو مان کر اس کے ڈھانچے میں عزت اور ترقی کے خواب دیکھیں بلکہ ناحق کی تردید اور حق کا اعلان کرنے کو انھوں نے اپنی زندگی کا مشن بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گھر سے نکال دئے گئے۔ قوم میں حقیر سمجھے جانے لگے، خود بادشاہ وقت بھی آپ کا دشمن بن گیا۔ کیونکہ آپ کی تحریک، اس وقت کے حالات میں بادشاہ کو اس کی سیاسی زمین سے محروم کرنے کے ہم معنی تھی ۔

چلتے ہوئے نظام سے بغاوت ہمیشہ اس قیمت پر ہوتی ہے کہ اس نظام کے اندر آدمی ہر قسم کے مواقع سے محروم ہوجائے، چنانچہ حضرت ابراہیم کے اس فیصلہ نے آپ کی پوری زندگی کو ایثار و قربانی کی زندگی بنا دیا۔ آپ گھر سے بے گھر کئے گئے۔ خاندانی جائداد میں آپ کا کوئی حصہ نہ رہا۔ باپ کی جانشینی کے لئے آپ نااہل قرار پائے، وقت کے سماج میں آپ کی حیثیت ایک اجنبی انسان کی ہوگئی۔ آذر کی تقریباً تین لاکھ کی آبادی میں کوئی آپ کا ساتھی نہ رہا، وقت کی حکومت آپ کو خطرہ کی نظر سے دیکھنے لگی۔ کیونکہ آپ اس کے پھیلائے ہوئے مذہبی عقیدہ کی تردید کرتے تھے کہ سورج چاند خدائی ہستیاں ہیں اور ان کی طرف سے کسی کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ زمین پر لوگوں کا بادشاہ بن جائے۔

حضرت ابراہیم نے پرسکون زندگی کے اوپر مصیبت کی زندگی کو ترجیح دی۔ انھوں نے عوام کے درمیان مقبولیت کے مقابلہ میں عوام کے درمیان اجنبی بن جانے کو پسند کیا۔ وہ عہدہ اور جائداد کو چھوڑ کر خالی ہاتھ ہو جانے پر

‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues

Printed page