ابراہیم کو ایثار
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۶
قانع ہو گئے ۔ بادشاہ وقت کے دربار میں معزز کرسی پر بیٹھنے کے بجائے انھوں نے یہ خطرہ مول لیا کہ بادشاہ کی نظر میں وہ مغضوب ہو جائیں اور حکومت کی طرف سے ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جائے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ قوم کے اندر بے عزت کئے گئے ۔ پھر آپ کو آگ میں ڈال دیا گیا جس سے اللہ نے آپ کو بچالیا ۔ اس کے بعد آپ کو مجبور کیا گیا کہ آپ عراق کو چھوڑ دیں اور ملک کے باہر چلے جائیں ۔
یہاں سے آپ کی زندگی میں ایثار و قربانی کا ایک اور شدید تر مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ملک کے معزز ترین خاندان کا ایک فرد اس طرح بے سرو سامانی کی حالت میں اپنے وطن سے نکلا کہ اس کے ساتھ صرف اس کی بیوی سارہ تھی اور اس کا بھتیجا لوط۔ تین آدمیوں کا یہ مختصر قافلہ خانہ بدوشوں کی طرح دریائے فرات کے کنارے کنارے سفر کرتا ہوا حاران پہنچا۔ پھر بحر ابیض کے ساحلی علاقوں سے گزرتا ہوا شام اور فلسطین اور مصر تک چلا گیا۔ مگر ان مقامات کے لوگ بھی اسی قسم کے غیر خدائی معبودوں کو ماننے والے تھے جن کو نہ ماننے کے جرم میں آپ کو اپنے وطن سے نکلنا پڑا۔ آخر اللہ کی طرف سے آپ کو یہ حکم ہوا کہ تم حجاز کے بے آب و گیاہ علاقہ میں جاؤ۔ وہاں پتھروں اور خشک پہاڑوں کے درمیان خدا کا ایک گھر بناؤ۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم جب مکہ آئے تو اس وقت وہاں نہ کوئی آدمی تھا اور نہ پانی (لیس یومئذ بمکة احد ولیس بها ماء ، بخاری، کتاب الانبیاء) وقت کے انسانوں نے خدا کو چھوڑ کر خود اپنے بنائے ہوئے معبودوں کی پرستش شروع کر دی تھی ۔ تاہم پتھر اور پہاڑ اب بھی اپنی اصل فطری حالت پر باقی تھے۔ اس فطرت کے ماحول میں آپ کو خدا کا گھر بنانے کا حکم ہوا تاکہ کوئی بندہ جو خالص خدا کی عبادت کرنا چاہے وہ یہاں آکر خدا کی عبادت کرے ، اب حضرت ابراہیم بحر قلزم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے موجودہ مکہ کے مقام پر پہنچے اور یہاں بیت اللہ کی تعمیر کی۔ وہ شخص جو عزت اور خوش حالی کی گود میں پیدا ہوا تھا اس نے حق کی خاطر تنہائی، مسافرت اور تنگ و دشوار زندگی کو اپنے لئے اختیار کر لیا۔ حضرت ابراہیم ۷۵ سال کی عمر میں عراق سے نکلے تھے ۔ ۱۰ سال کی مسافرانہ زندگی کے بعد ۷۸۵ قم میں آپ کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام آپ نے اسماعیل رکھا (اسماعیل کے معنی سمع اللہ کے ہیں) اس وقت آپ کی عمر ۸۶ سال تھی ۔ بڑھاپے کی اولاد یوں بھی آدمی کے لئے عزیز ہوتی ہے ۔ اور آپ کا حال تو یہ تھا کہ تمام دوستوں اور رشتہ داروں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور اب آپ تمام تر اپنے بیوی بچے کے سہارے پر رہ گئے تھے۔ ایسی حالت میں ہونہار لڑکا آپ کے لئے کتنا زیادہ محبوب ہوگا۔ مگر بیٹا جب بڑا ہوا اور آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو ایثار و قربانی کا اور اگلی کڑا امتحان سامنے آگیا۔ خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنے آخری سہارے سے بھی دست بردار ہو جاؤ ، اپنے بیٹے کو ہماری راہ میں قربان کر دو۔ تو رات کے بیان کے مطابق جب قربانی کا حکم ہوا تو اس وقت آپ کے فرزند کی عمر ۱۳ سال تھی ۔
حضرت ابراہیم سو سال کی عمر کو پہنچ گئے تھے کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں۔ خواب کو عام طور پر ایک تمثیل چیز سمجھا جاتا ہے ۔ آپ اس کو کسی تعبیری مفہوم میں لے سکتے تھے۔ مگر یہ حضرت ابراہیم کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues