اللہ کی راہ میں خرچ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴
کہ رہنمائی تو صرف اللہ کی رہنمائی ہے اور ہم کو حکم ملا ہے کہ ہم اپنے آپ کو عالم کے رب کے حوالے کردیں ۔ اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اللہ سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے ۔ اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جس دن وہ کہے گا کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گا ۔ اس کی بات حق ہے اور اسی کی حکومت ہوگی اس روز جب صور پھونکا جائے گا ۔ وہ غائب و حاضر کا عالم اور حکیم وخبیر ہے ۔ ۷۳-۷۱ جو لوگ خدا کے سوا دوسرے سہاروں پر اپنی زندگی قائم کریں ان کی مثال اس مسافر کی سی ہوتی ہے جو بے نشان صحرا میں بھٹک رہا ہو ۔ صحرا میں بھٹکنے والا مسافر فوراً جان لیتا ہے کہ اس نے اپنا راستہ کھو دیا ہے ۔ راستہ دکھائی دیتے ہی وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے ۔ مگر جو لوگ خدا کے بجائے دوسرے سہاروں پر جیتے ہیں ان کو اپنے بے راہ ہونے کی خبر نہیں ہوتی ۔ ان کے آس پاس پکارنے والے پکارتے ہیں کہ اصل راستہ یہ ہے ، ادھر آ جاؤ مگر وہ اس قسم کی آوازوں پر دھیان نہیں دیتے ۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے معاملہ میں آدمی کی عقل کھلی ہوئی ہوتی ہے ، صحیح راستہ کو دیکھنے میں اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ۔ جب کہ دوسری صورت میں آدمی کی عقل شیطان کے زیر اثر آ جاتی ہے ، اس کی سوچ اپنے فطری ڈھنگ پر کام نہیں کرتی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سن کر بھی نہیں سنتا اور دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا ۔
خدا کے سوا دوسری چیزوں کا طالب بننا ایسی چیزوں کا طالب بننا ہے جو اس دنیا میں فائدہ ونقصان کی طاقت نہیں رکھتیں ۔ زمین و آسمان اپنے پورے نظام کے ساتھ انکار کر رہے ہیں کہ یہاں ایک ہستی کے سوا کسی اور ہستی کو کوئی طاقت حاصل ہو۔ اسی طرح جن دنیوی رونقوں کو آدمی اپنا مقصد بناتا ہے اور ان کو پانے کی کوشش میں سچائی اور انصاف کے تمام تقاضوں کو روند ڈالتا ہے ، وہ بھی سراسر بالکل ہے ۔ کیوں کہ انانیت زندگی اگر اسی ظالمانہ حالت پر تمام ہو جائے تو یہ دنیا باطل بے معنی قرار پاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا خود غرض اور انسانی پسند لوگوں کی تماشا گاہ ہے ۔ حالانکہ کائنات کا نظام جس با کمال خدا کی تجلیاں دکھا رہا ہے اس سے انتہائی بعید ہے کہ وہ اس طرح کی کوئی بے مقصد تماشا گاہ کھڑی کرے ۔
دنیا کی موجودہ صورت حال بالکل عارضی ہے ۔ خدا کسی بھی دن اپنا نیا حکم جاری کرکے اس نظام کو توڑ دے گا ۔ اس کے بعد انسان کی موجودہ آزادی ختم ہو جائے گی اور خدا کا اقتدار انسانوں پر بھی اسی طرح قائم ہو جائے گا جس طرح موجودہ کائنات پر قائم ہے ۔ جو وقت کا حساب اور دوسرے حقائق فراموش کر کے انسانوں کے زمانے میں جیا ، وہ خدا کے ہاں مجرم ٹھہرائے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues