اللہ کی راہ میں خرچ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵
نے کہا میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ پھر جب اس نے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا اگر میرا رب مجھ کو ہدایت نہ کوے تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہو جاؤں ۔ پھر جب سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے لوگو، میں اس شرک سے بری ہوں جو تم کرتے ہو ۔ میں نے اپنا رخ ایک سو ہو کر اس کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کر لیا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ۷۹ - ۷۴۔
حضرت ابراہیمؑ کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدہ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ دو ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیدا ہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہوتی تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں ۔ کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔
رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتا ہوا ان کے سامنے آتا ہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا رڈ بنانا ان کے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے ۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لئے چمکے اور پھر غائب ہو جائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پو جا جائے ۔ باطل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چک کر تھوڑی دیر کے لئے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے ۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جوان کے اپنے لئے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے، اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور اندازِ کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کر اصطلاح میں حجتِ الزامی کہا جاتا ہے یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجتِ الزامی کا طریقہ دانہ درود رند پارتل تم دو گے، سوال ماؤ دائہ ال النور الذي ظلمت عليه عالب (ص (90)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues