Al-Risala · December 1980 · page 26

اللہ کی راہ میں خرچ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶

اور اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی۔ اس نے کہا کیا تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالاں کہ اس نے مجھے راہ دکھادی ہے۔ اور میں ان سے نہیں ڈرتا جن کو تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو مگر یہ کہ کوئی بات میرا رب ہی چاہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، کیا تم نہیں سوچتے۔ اور میں کیوں کر ڈروں تمھارے شریکوں سے جب کہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نہیں اتاری۔ اب دونوں فریقوں میں سے امن کا زیادہ مستحق کون ہے، اگر تم جانتے ہو۔ جولوگ ایمان لائے اور نہیں ملایا انھوں نے اپنے ایمان میں کوئی نقصان، انھیں کے لئے امن ہے اور وہی سیدھی راہ پر ہیں۔ یہ ہے ہماری دلیل جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں دی۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، بے شک تمھارا رب حکیم علیم ہے۔ ۸۰ - ۸۳ جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کا درجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کہیں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے۔ تم برباد ہوجاؤ گے۔ وغیرہ اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات ہے جس کی کبریائی دلیل و برہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی ہستیاں ہیں سب تو ہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں، اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔

ظاہر حالات کو دیکھ کر ان معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل اور برہان پر کھڑا ہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لئے محفوظ دیوار حاصل کرلے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ با عزت زندگی حاصل کرنے کی اس سے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کرلی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کر لینا ہے جو خود کو ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنادے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues

Printed page