اللہ کی راہ میں خرچ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴
نیکوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ اللہ زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی، ان میں سے ہر ایک صالح تھا۔ اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی، اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے دنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔ اور ان کے باپ دادوں اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی، اور ان کو ہم نے چن لیا اور ہم نے سیدھے راستہ کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس سے سرفراز کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرتے تو ضائع ہو جاتا جو کچھ انہوں نے کیا تھا۔ یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی۔ پس اگر یہ مکہ والے اس کا انکار کردیں تو ہم نے اس کے لیے ایسے لوگ مقرر کر دئے ہیں جو اس کے منکر نہیں ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔ کہہ دو، میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ یہ تو بس ایک نصیحت ہے دنیا والوں کے لئے۔ ۹۰-۸۳ 10| «فضیلت» کسی کا نسلی یا قومی لقب نہیں، یہ اللہ کا ایک عطیہ ہے جس کا تحقق صرف ان افراد کے لئے ہوتا ہے جو خدا کی ہدایت کے مطابق اپنے کو صالح بنائیں، مشرک کی تمام قسموں سے اپنے کو بچائیں اور بلا معاوضہ نصیحت “ کے دعوتی منصوبہ میں اپنے کو ہمہ تن شامل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی کتاب کو اپنا حقیقی رہنما بناتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ اپنے وجود کو اتنا زیادہ شامل کردیتے ہیں کہ ان پر اس راہ کے وہ بھید کھلنے لگتے ہیں جن کو حکمت کہا جاتا ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا چن لیتا ہے اور ان میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے دین کی پیغام رسانی کی توفیق دیتا ہے، دور نبوت میں اللہ کے خصوصی پیغمبر کی حیثیت سے اور ختم نبوت کے بعد اللہ کے عام داعی کی حیثیت سے۔ اللہ کا انعام خواہ وہ پیغمبروں کے لئے ہو یا عام انسانوں کے لئے، تمام تر نیک عملی (احسان) کی بنیاد پر ملتا ہے نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دعوت حق کا کام صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اس کی خاطر اتنا زیادہ یکسو اور بے نفس ہو چکے ہوں کہ وہ مدعو سے کسی قسم کی مادی توقع نہ رکھیں۔ جس شخص یا گروہ تک آپ آخرت کا پیغام پہنچارہے ہوں اسی سے آپ اپنے دنیوی حقوق کے لئے احتجاج اور مطالبات کی مہم نہیں چلا سکتے۔ داعی کا ایسا کرنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کی دعوت مدعو کی نظر میں مضحکہ خیز بن کر رہ جائے اور ماحول کے اندر بھی اس کو سنجیدہ مہم کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ مکہ میں کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ مگر بحیثیت قوم“ مکہ والوں نے آپ کا انکار کردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ والوں کے دل آپ کی دعوت کے حق میں نرم کر دئے اور وہ بحیثیت قوم آپ کے مومن بن گئے۔ حتیٰ کہ آپ کے لئے یہ ممکن ہوگیا کہ آپ مکہ سے مدینہ جاکر وہاں اسلام کا مرکز قائم کرسکیں ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ میں حاصل ہوئی۔ تاہم آپ کی امت میں اٹھنے والے داعیوں کو بھی اللہ یہ مدد دے سکتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق دیتا رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues