Al-Risala · December 1980 · page 28

اللہ کی راہ میں خرچ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۸

تذکیر القرآن الانعام ۶ اور انھوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب انھوں نے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری، کہو کہ وہ کتاب کس نے اتاری تھی جسے لے کر موسیٰ آئے تھے، وہ روشن تھی اور رہنمائی تھی لوگوں کے واسطے، جس کو تم نے ورق ورق کر رکھا ہے ۔ کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو ۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائیں جن کو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمھارے باپ دادا۔ کہو کہ اللہ نے اتاری ۔ پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی کج بحثیوں میں کھیلتے رہیں۔ اور یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے، برکت والی ہے، تصدیق کرنے والی ان کی جو اس سے پہلے ہیں، اور تاکہ تو ڈرائے مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو۔ اور جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہی اس پر ایمان لائیں گے۔ اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ۹۱ - ۹۲ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مکہ کے لوگوں کے سامنے آئی تو ان کے کچھ لوگوں نے بعض یہود سے پوچھا کہ تمھارا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ کیا محمد پر واقعی خدا کا کلام نازل ہوا ہے۔ یہود نے جواب دیا "خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے" یہ بظاہر یہ بات بڑی عجیب ہے، کیونکہ یہود تو خود نبیوں کو ماننے والے تھے۔ اور اس طرح گویا وہ اقرار کر رہے تھے کہ بشر پر خدا کا کلام اترتا ہے۔ مگر جب آدمی مخالفت میں اندھا ہو جائے تو وہ مخالفت کی تردید کے جوش میں کبھی یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنی مانی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ یہود کے اندر یہ ڈھٹائی اس لئے پیدا ہوئی کہ انھوں نے خدا کی کتاب کو ورق ورق کر دیا تھا۔ وہ خدا کی تعلیمات کے کچھ حصے کو سامنے لاتے اور بقیہ کو کتاب میں بند رکھتے مثلاً وہ انعام والی آیتوں کو خوب سنتے سناتے اور ان آیتوں کو چھوڑ دیتے جن میں وہ اعمال بتائے گئے ہیں جن کے کرنے سے کسی کو مذکورہ انعام ملتا ہے۔ وہ ایسی آیتوں کا خصوصی تذکرہ کرتے جن سے ان کی شور و غل کی سیاست کی تائید نکلتی ہو اور ان آیتوں کو نظر انداز کر دیتے جن میں خاموش اصلاح کے احکام دئے گئے ہوں ۔ وہ ایسی آیتوں کے درس میں بڑا اہتمام کرتے جن میں ان کے لئے لفظی موشگافیوں کا کمال دکھانے کا موقع ہو مگر ان آیتوں سے سرسری گزر جاتے جن میں دین کے ابدی حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ وہ ایسی آیتوں کا خوب چرچا کرتے جن سے اپنی فضیلت نکلتی ہو اور ان آیتوں سے بے توجہی برتتے ہیں جن سے ان کی ذمہ داریاں معلوم ہوتی ہیں۔ جو لوگ خدا کی کتاب کو اس طرح "ورق ورق" کریں، ان کے اندر فطری طور پر ڈھٹائی آ جاتی ہے۔ وہ غیر سنجیدہ بحثیں کرتے ہیں، متضاد بیانات دیتے ہیں۔ ان سے کسی حقیقی تعاون کی امید نہیں کی جاسکتی۔ جو لوگ خدا کی کتاب کے ساتھ انصاف نہ کریں وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کیسے انصاف کر سکتے ہیں ۔ دین کی دعوت اصلاً لوگوں کو ہوشیار کرنے کی دعوت ہے۔ اس قسم کی دعوت خواہ کتنے ہی کامل انسان کی طرف سے پیش کی جائے وہ سننے والے کے دل میں اس وقت جگہ کرے گی جب کہ وہ اپنے سینہ میں ایک اندیشہ ناک دل رکھتا ہو اور آخرت کے معاملہ کو ایک سنجیدہ معاملہ سمجھتا ہو۔ سننے والے میں اگر یہ ابتدائی مادہ موجود نہ ہو تو سنانے والا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues

Printed page