Al-Risala · December 1980 · page 29

اسلام اور کفر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹

اسلام اور کفر

اسلام کا مطلب ہے ماننا اور کفر کا مطلب ہے انکار کرنا۔ انسان بظاہر دنیا میں آزاد ہے کہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے، مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز خدا کی ہے۔ کسی کے پاس جو کچھ ہے سب اسی کا دیا ہوا ہے۔ یہاں خدا کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ خدا ہر وقت انسان کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ اسلام یہ ہے کہ آدمی اس حقیقت واقعہ کو مان لے اور اپنی زندگی اس کے مطابق گزارے۔ اس کے مقابلہ میں کفر یہ ہے کہ آدمی اس حقیقت واقعہ کو نہ مانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنانے کے لئے تیار نہ ہو۔ آگ جل رہی ہو تو آدمی یہ اختیار رکھتا ہے کہ اس کے اندر اپنا ہاتھ ڈال دے۔ مگر اختیار کے باوجود وہ آگ کے اندر اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا۔ یہی حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ دنیا میں اگر چہ بظاہر آدمی کو پوری آزادی حاصل ہے۔ مگر یہ آزادی صرف جانچ کے لئے ہے۔ خدا انسان کو آزادی دے کر یہ جانچنا چاہتا ہے کہ وہ آزادی پا کر سرکشی کرتا ہے یا حقیقت واقعہ کا اعتراف کر کے خدا کے آگے جھک جاتا ہے۔ جو شخص خدا کی خدائی کو تسلیم کر کے اپنی زندگی کو حقیقت کے مطابق بنائے، اس نے اسلام قبول کیا۔ ایسے شخص کے لئے خدا کے ابدی انعامات ہیں۔ اس کے برعکس جو شخص اس حقیقت کو نہ مانے اور خدا کو اپنا آقا اور اپنے آپ کو اس کا بندہ بنانے پر راضی نہ ہو اس نے کفر کیا۔ ایسے شخص کو خدا فیصلہ کے دن سخت سزا دے گا۔

جو شخص اسلام کا طریقہ اختیار کرے اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔ اس کی سوچ صحیح ترین سوچ ہوتی ہے، کیونکہ وہ حقیقت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کا عمل صحیح ترین عمل ہوتا ہے کیونکہ وہ حقیقت واقعہ کے مطابق ہوتا ہے، دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک صحیح ترین سلوک ہوتا ہے کیونکہ وہ حقیقت واقعہ کو سامنے رکھ کر قائم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کافر ہر معاملہ میں حقیقت واقعہ کے خلاف چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا انجام کامل بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues

Printed page