Al-Risala · February 1980 · page 14

یہ خوش خیال مفکرین

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۴

یہ خوش خیال مفکرین

ڈاکٹر محمد اقبال (۱۹۳۸ - ۱۸۷۷) ایک آفاقی شاعر تھے۔ نہ صرف چین و عرب بلکہ سارا جہان ان کا وطن تھا۔ ان کا سبق تھا: زمانہ باتو نسازد تو با زمانہ ستیز از زمانہ اگمرتم سے موافق نہ کرے تو اس سے لڑکر زمانہ کو اپنے موافقت بناؤ) انھوں نے ممسلمانوں کو اس قسم کے نغمے دئے:

کافر کی یہ تعریف کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ تعریف کہ گم اس میں ہیں آفاق مگر یہی اقبال تھے جنھوں نے ۱۹۳۱ میں ملک کی تقسیم کا نظریہ پیش کیا۔ شاعری کی دنیا میں اقبال سارے آفاق کو اپنے اندر گم کئے ہوئے تھے۔ مگر عمل کی دنیا میں وہ پوری زمین تو درکنار ایک ملک کو بھی اپنے اندر گم کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے۔ وہ ملک کے کنارے ایک ایسا چھوٹا ٹکڑا حاصل کرنے پر قانع ہو گئے جہاں سلمان پہلے سے اپنی عددی اکثریت کی بنا پر غالب ہوں۔ وہ شخص جو شاعری کی سطح پر یزداں بکند اور اے ہمت مردانہ کا ترانہ گا رہا تھا وہ عمل کی سطح پر ملک کے اکثریتی فرقہ کو بھی اپنے اندر ضم کرنے کا منصوبہ نہ بنا سکا۔ اس نے نجات کی صورت اس کی سمجھ میں صرف یہ آئی کہ مبوارہ کر کے اپنے لئے علیحدگی کا ایک گوشہ تلاش کرلے۔ یہی موجودہ زمانہ کے اکثر مسلمان مفکرین اور مصلحین کا حال نظر آتا ہے۔ تقریر اور تحریر میں ان کی منزل چرخ نیلی فام سے بھی پرے ہوتی ہے۔ الفاظ کی دنیا میں آسمان کے ستارے بھی ان کی گرد راہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ مگر عمل کی سطح پر آتے ہی ان کا حال ایسا ہو جاتا ہے جیسے ایک پھولا ہوا غبارہ تھا جو واقعات کی چٹان سے ٹکرا کر ختم ہو گیا۔ مولانا محمد علی جوہر (۱۹۳۱ - ۱۸۷۸) عالمی اسلامی خلافت کے لئے اٹھے۔ ان کی شان دار اسلامی تقریروں سے ایک پورا براعظم گونج اٹھا۔ شعر کی فضاؤں میں وہ یہ بندہ دو عالم سے خفا تیرے لئے ہے، کی سطح پر پرواز کر رہے تھے۔ مگر ترکی کے مصطفی کمال پاشا نے 1921 میں خلافت کا ادارہ ختم کر دیا تو ان کی قیادت بے زمین ہو کر رہ گئی۔ اس کے بعد ان کے لئے کرنے کا کام اس کے سوا کچھ اور نہ رہا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ایک مشترک وطن کی آزادی پر قربان کر دیں۔ جو شخص عالمی اسلامی خلافت پر جان دینے کے لئے اٹھا تھا اس نے ایک ایسی وطنی آزادی پر جان دینا پسند کر لیا جو عملاً مسلم اقلیت کے اوپر غیر مسلم اکثریت کے غلبہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ اسلامی خلافت کا مینار گاندھیائی خلافت کی بنیاد کی ایک اینٹ بن کر رہ گیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد (۱۹۵۸ - ۱۸۸۸) نے اپنی زندگی کا آغاز الہلال (اور البلاغ کی پر شور تحریروں اور مسلم اجتماعات میں اپنی عالی شان تقریروں سے کیا۔ اس وقت وہ قرآن سے کم کسی چیز پر راضی ہونے والے دکھائی نہ دیتے تھے۔ انھوں نے پیغمبرانہ زبان، میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ وہ خدا کی کتاب لے کر اٹھیں اور خیر الامم کا تاج اپنے سر پر رکھ کر سارے عالم کے لئے آفتاب و ماہتاب بن جائیں۔ مگر قرآنی انقلاب کا پیغام دینے والا بالا آخر ہندوستانی قومیت کا پیغام دینے والا بن گیا۔ وہ شخص جس نے حزب اللہ کے قیام کو اپنا مقصد بتایا تھا وہ حزب الوطن کی سطح پر آکر ٹھہر گیا، ۱۹۴۰ میں ان کی دعوت پر سارے ملک کے مسلمان لکھنؤ کنونشن میں جمع ہو گئے ۔ مگر اس نازک تاریخی موڑ پر مولانا ابوالکلام آزاد کے پاس ہندوستانی مسلمانوں کے لئے جو پیغام تھا وہ صرف یہ کہ سارے مسلمان انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page