Al-Risala · February 1980 · page 15

یہ خوش خیال مفکرین

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۵

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳-۱۹۷۹) کی مثال اور بھی زیادہ عبرت ناک ہے۔ انھوں نے اپنی تحریک کی بنیاد حاکمیت خدا پر رکھی۔ انھوں نے کہا کہ زمین پر صرف خدا کے قانون کی حکمرانی قائم ہونی چاہئے۔ اس کے سوا جتنے قانون انسان نے بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ مسلمان کے لئے ایسی زندگی حرام ہے جبکہ وہ غیر خدائی قانون پر راضی ہو جائے۔ اس کو یا تو خدا کے قانون کو نافذ کرنا ہے یا اس کے نفاذ کے لئے لڑتے ہوئے مر جانا ہے: ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون - - - هم الفاسقون - - - هم الظالمون (جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں، وہی ظالم ہیں، وہی فاسق ہیں) مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا کہنا تھا کہ غیر خدائی قانون کو بنانے والا قانون ساز، اس کے تحت فیصلہ کرنے والا جج، اس کو نافذ کرنے والی حکومت، سب کے سب فعل حرام کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک شخص مسلمہ طور پر مجرم ہو اور اس کو انسانی قانون کے تحت سزادی جائے تب بھی وہ جرم کی سزا نہیں ہوتی بلکہ خود ایک جرم ہوتا ہے۔ کیوں کہ خدا کی زمین پر کسی کو طے کرنے کا حق نہیں کہ کسی جرم پر کسی کو کیا سزا دی جائے کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بطور خودکسی سزا کو نافذ کرے۔ گویا کہ وہ شخص جو انسانی قانون کے تحت ایک قاتل کو قتل کرتا ہے وہ خود بھی ایک قاتل ہے۔ کیوں کہ اس نے خدا کی زمین پر خدا کی اجازت کے بغیر خدا کی پیدا کی ہوئی ایک جان کو ہلاک کیا۔

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ساری عمر قانون اسلامی کے نفاذ کا مطالبہ کرتے رہے۔ عمر کے آخری حصہ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ۵ جولائی ، ۱۹۷۷ کو پاکستان میں فوجی انقلاب آیا اور جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں ایسی حکومت قائم ہو گئی جس کو نہ صرف مولانا مودودی کی مکمل تائید حاصل تھی بلکہ ان کی اپنی جماعت کے کئی افراد اس میں ذمہ دارانہ مناصب پر فائز تھے، اس حکومت کے تحت مسٹر ذوالفقار علی بھٹو پر مقدمہ چلایا گیا جو خود مولانا مودودی اور ان کی جماعت کے مطالبہ ” پہلے احتساب پھر انتخاب “ کے مطابق تھا۔ ان کے لئے پورا موقع تھا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کو شرعی قانون کی عدالت میں کھڑا کریں اور اسلامی احکام کے مطابق ان پر باقاعدہ مقدمہ چلائیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ ساری دنیا کے سامنے اسلام کی وہ ” عملی شہادت “ پیش کر دیتے جس کے وہ زندگی بھر مبلغ رہے تھے اور جس کے بغیر ان کے نزدیک دعوت اسلامی کا کام مکمل نہیں ہوتا۔ مگر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی پوری جماعت کی مکمل تائید و حمایت سے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے تحت چلایا گیا۔ پاکستان میں اس وقت تین قسم کی عدالتیں ہیں۔ ایک فوجی عدالت، دوسرے شرعی عدالت، تیسرے برطانوی قانون کے تحت قائم شدہ عدالت جو تقسیم کے پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ وہ مسٹر بھٹو کے مقدمہ کو شرعی عدالت میں جاری کرا سکتے تھے۔ بالفرض اگر شرعی عدالتوں کے اختیارات محدود ہوں تو صدارتی فرمان کے ذریعہ اس کے اختیار کو وسیع بنا کر اور حسب ضرورت قاضیوں کا تقرر کر کے یہ کام عمل میں آ سکتا تھا۔ مگر یہ سب کچھ نہیں کیا گیا ۔ حتیٰ کہ مولانا مودودی یا ان کی جماعت کے کسی شخص نے اس کا مطالبہ تک نہیں کیا۔ مسٹر بھٹو کا مقدمہ ، شرعی عدالت کو چھوڑ کر، اس عدالت کے زیر سماعت لایا گیا جو برطانوی قانون پر مبنی چلی آ رہی ہے۔ مسٹر بھٹو پر قتل کا الزام تھا جس کے لئے واضح قوانین اسلامی شریعت میں موجود ہیں۔ مگر ان کا مقدمہ جانتے بوجھتے برطانوی قانون تعزیرات کے تحت چلایا گیا نہ کہ اسلامی قانون تعزیرات کے تحت۔

پاکستان کا یہ مشہور ترین مقدمہ مولانا مودودی کی مکمل تائید و حمایت کے تحت چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ۴ اپریل ۱۹۷۹ کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page