یہ خوش خیال مفکرین
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۶
مسٹر بھٹو کو پھانسی دے دی گئی جب کہ مولانا مودودی زندہ سلامت موجود تھے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے نظریہ کے مطابق یہ ساری کارروائی تحاکم الی الطاغوت (اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لئے اس حاکم کے پاس جانا جو قانون الہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو) کی مصداق تھی۔ وہ مکمل طور پر غیر اسلامی تھی۔ کیوں کہ وہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے تحت عمل کے لائی گئی۔ مگر مولانا مودودی نے نہ صرف یہ کہ اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا بلکہ اس کی پوری تائید کرتے رہے۔ وہ شخص جس نے اس عنوان سے شہرت پائی کہ وہ اس اصول کا سب سے بڑا مبلغ ہے کہ خدا کے نازل کردہ قانون کے سوا کسی اور قانون پر فیصلہ کرنا کفر اور ظلم اور فسق ہے، یہ طاغوتی عدالت کے پاس اپنے معاملات کے فیصلے کے لئے جاتا ہے جو سراسر ایمان کے منافی ہے۔ جو اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس اصول پر سمجھوتہ کرنے کے کسی طرح راضی نہ تھا۔ اس نے خود اپنے اختیار سے اس اصول کو دفن کر دیا۔ اس نے اپنی پوری تائید اور اہتمام کے ساتھ غیر خدا کے بنائے ہوئے قانون کے تحت ایک مشہور ترین "مجرم" پر مقدمہ چلوایا اور اسی غیر خدائی قانون کے مطابق اس شخص کو پھانسی کے تختہ پر چڑھا دیا گیا۔ وہ شخص جو ساری عمر خدائی قانون کے نفاذ کی تحریک چلاتا رہا، پہلا موقع ملتے ہی اس نے اپنے عمل سے یہ گواہی دی کہ ملک کے لئے یا کم از کم اس کے اپنے مقصد کے لئے سب سے زیادہ کار آمد قانون وہ ہے جو انسان کا بنایا ہوا ہے ۔ ۔۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے قائدین نے بڑی بڑی اسلامی تحریکیں اٹھائیں۔ مگر وہ اپنی تحریک کی آپ تردید کرتے رہے۔ پھر جولوگ اپنی تردید آپ کریں وہ اپنے باہر کس طرح اس کو نتیجہ خیز بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کی ایک انوکھی خصوصیت ہے۔ وہ شان دار کامیابی حاصل کرنے کے باوجود مکمل طور پر ناکام ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں اسلام پسند مفکرین کا کہنا تھا کہ ملک کے ۹۹ فی صد لوگ اسلامی نظام چاہتے ہیں، صرف بھٹو جیسے چند لوگ ہیں جو اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگر ان تھوڑے سے لوگوں کو میدان سے ہٹا دیا جائے اور اس کے بعد عوامی انتخاب ہو تو سارے لوگ اسلام کو ووٹ دیں گے اور اسلامی نظام کے سوا کوئی دوسری چیز قائم نہ ہو سکے گی۔ بے شمار ناقابل بیان قربانیوں کے بعد" بھٹوؤں " کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد اسلامی مفکرین کے پسندیدہ حکمراں جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ وہ ۱۸ اکتوبر ۱۹۷ کو پاکستان میں عام الکشن کرائیں گے۔ پھر اس کو ملتوی کرکے ۷ ار نومبر ۷ ۱۹۷ کی تاریخ الیکشن کے لئے مقرر کی گئی جو دوبارہ منسوخ کر دی گئی۔ دونوں بار جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ چون کہ "ثبت نتائج " کی امید نہیں اس لئے الیکشن ملتوی کئے جاتے ہیں۔ "بھٹوؤں" کے خاتمہ پر پاکستان میں اسلام پسند عام الفتح (۱۹۷۷ ء) منا چکے تھے۔ مگر جب انتخاب کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ عوامی رائے کے ذریعے ان کے لئے اقتدار پر پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ ابتدائی اندازہ کرنے کے لئے ملک میں بلدیاتی الیکشن (ستمبر ۱۹۷۹) کرایا گیا ۔ مگر ہر قسم کی پابندیوں کے باوجود "بھٹو پارٹی " نے ۸۰ فی صد نشستوں پر قبضہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد عام انتخابات کا منصوبہ مستقل طور پر ختم کر دیا گیا۔ شاندار فتح حاصل کرنے کے باوجود صرف شان دار نا کا می اسلام پسندوں کے حصہ میں آسکی۔ اب پاکستان میں جو " اسلام پسند " حکومت قائم ہے وہ صرف جبر کے زور پر قائم ہے نہ کہ عوامی تائید کے زور پر۔
اب ایران کی مثال لیجیے۔ شاہ محمد رضا پہلوی نے جب جنوری1979میں بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ ملک کو چھوڑا اور فروری ۷ ۱۹۷۹ میں آیات اللہ روح اللہ خمینی فاتحانہ انداز سے تہران کے ہوائی اڈہ پر اترے تو اسلام پسندوں نے اس کو ایسا انقلاب قرار دیا جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مگر بے مثال کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ایران کو نئے انقلاب نے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues