Al-Risala · February 1980 · page 17

یہ خوش خیال مفکرین

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۷

نتائج سے لوگ بہت غیر مطمئن ہے۔ ہر طرف انتشار اور بد نظمی پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کے اسلامی انقلاب کا وہ پھل لوگوں کو نہیں ملا جس کا ان سے انقلاب سے پہلے وعدہ کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ یہاں کچھ لوگ ہیں جو اندیشہ کر رہے ہیں کہ ایران کے لیے بہت مشکل ایام آنے والے ہیں۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آیات اللہ خمینی جن کی عمر دس سال ہو چکی ہے، اس کے جواب میں کہتے ہیں : "ہم اس بچے کی طرح ہیں جس کی عمر ابھی صرف چھ ماہ ہے ۔ ہمارے اسلامی انقلاب کی عمر صرف چھ مہینے ہیں۔ ہم اپنے سفر کے آغاز میں ہیں۔ آپ ایسے بچے سے کیا امید کر سکتی ہیں جس کی عمر ابھی صرف چھ مہینے ہو ٹائمز آف انڈیا ۱۸ نومبر ۱۹۷۹ء )

ایران کے اسلامی لیڈر کا یہ جواب صرف اس بات کا اقرار ہے کہ ان کا انقلاب شان دار کامیابی کے باوجود صرف شاندار ناکامی تک پہنچا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک " بچہ" ہوتی ہے، انقلاب کبھی بچہ" نہیں ہوتا۔ انقلاب تو کسی تحریک کے کمسن عمر کو پہنچنے کا نام ہے۔ پھر وہ بچہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ وہ انقلاب جو انقلاب کے مرحلہ میں پہنچ کر بچہ ہو وہ انقلاب ہی نہیں۔ وہ صرف ایک ہٹرونک ہے جس کو غلطی سے انقلاب کا نام دے دیا گیا ہے ــــــــــ یہی وجہ ہے کہ الہی خلافت کے نام پر اٹھنے والے جب اقتدار پاتے ہیں تو فوراً انسانی آمریت قائم کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ ملک کے مایوس اور ناراض عوام کے درمیان اپنی زندگی کی کوئی صورت انھیں آمریت کے سوا نظر نہیں آتی ۔ " اسلامی نظام" قائم کرنے کے دعوے دار بالآخر "غیر اسلامی نظام" قائم کرکے اس کے سایہ میں بیٹھ جاتے ہیں ۔

موجودہ زمانہ کے انتہائی بڑے بڑے اسلامی مفکرین و مصلحین کا یہ عبرت ناک انجام کیوں ہوا۔ اس کے اسباب کو مختلف طریقوں سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایک مشترک سبب یہ ہے کہ یہ تمام مفکرین دراصل رومانی مفکرین تھے نہ کہ حقیقت پسند مفکرین ، اور رومانی دنیا میں جو خیالی محل بنایا گیا ہو وہ حقیقت کی دنیا میں کوئی واقعی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ رومانویت ( Romanticism) جو اٹھارویں صدی سے لے کر جنگِ عظیم اول تک ایک خاص صورت رہی ہے۔ یورپ میں پائی جاتی تھی ، وہی انیسویں اور بیسویں صدی کے مسلم مفکرین پر اپنے حالات کے لحاظ سے چھاتی رہی ہے۔ ہر قوم جس کا ایک شان دار ماضی ہو اور پھر وہ زوال کا شکار ہو جائے ، اس کے بعد جب اس کے درمیان احیار نو کی تحریک اٹھتی ہے تو اس میں خوش خیال مفکرین کثرت سے جنم لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصوراتی ماضی کے زیر اثر اپنے مستقبل کے بارے میں حسین خواب دیکھتے ہیں جو ہمیشہ مبالغہ آمیز حد تک خیالی ہوتا ہے۔ حقیقی دنیا میں کوئی واقعہ پیدا کرنے کے لئے لمبا وقت اور خشک عمل درکار ہوتا ہے۔ جب کہ خیالی دنیا میں شان دار قلعہ کھڑا کرنے کے لئے الفاظ بول دینے کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ اس لئے ماضی اور مستقبل کے درمیانی فاصلہ کو طے کرنے کے لئے الفاظ کے بڑے بڑے پل بننے شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے دور میں حقیقت پسندانہ بات کرنے والے کی کوئی قدر نہیں ہوتی البتہ آنے والے مستقبل کا جو شخص جتنا زیادہ مبالغہ آمیز نقشہ دکھائے اتنا ہی زیادہ وہ عوام میں مقبول ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر تمام مفکرین خوش خیالیوں کا محل کھڑا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اور جس کا ۱۴ | رسال فروری ۱۹۸۰ء

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page