Al-Risala · February 1980 · page 18

یہ خوش خیال مفکرین

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸

فرضی محل جتنا زیادہ شان دار ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ بھیڑ اس کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی بھیڑ تخریبی نوعیت کا کوئی’’انقلاب‘‘ برپا کرنے میں ممکن ہے کامیاب ہو جائے۔ مگر وہ تعمیری نوعیت کا انقلاب لانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ کیوں کہ تخریبی انقلاب کے لئے تو کسی’’بھٹو‘‘ یا کسی’’شاہ رضا‘‘ کا گلا گھونٹ دینا کافی ہے۔ مگر تعمیری انقلاب کے لئے’’مارنا‘‘نہیں بلکہ’’زندہ کرنا‘‘پڑتا ہے۔ اس کے لئے ہوش درکار ہے نہ کہ جوش۔ اس کے لئے حقیقت پسندی درکار ہے نہ کہ خوش خیالی۔ تعمیری انقلاب کے لئے لمبی خاموش جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لئے مثبت عوام درکار ہوتے ہیں۔ اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس کے مطابق حقائق وواقعات کی زمین فراہم کی جائے۔ مگر یہ وہ چیزیں ہیں جو خوش خیال مفکرین کے یہاں سرے سے موجود نہیں ہوتیں۔ ان کا سرمایہ ہوتا ہے ۔ غلو، نقالی، خیال آرائی، شاعرانہ بلند پروازی۔ اور ظاہر ہے کہ حقیقت کی دنیا میں ان چیزوں کی کوئی قیمت نہیں۔ ان کا خیالی محل اپنے لئے حقیقی زمین نہ پا کر اچانک منہدم ہو جاتا ہے ۔

اوپر کی گفتگو کا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ زمانہ کے ان اسلامی مفکرین و مصلحین نے کوئی مفید کام نہیں کیا۔ ہر تحریک میں کچھ نہ کچھ مفید پہلو ہوتے ہیں اور ان کی تحریکوں کے دوران بھی بلاشبہ کئی مفید کام انجام پائے۔ مگر یہ تحریکیں مجموعی طور پر اثمهما اکبر من نفعھما (ان کا نقصان ان کے نفع سے زیادہ ہے) کا مصداق تھیں۔ اور سب سے بڑا نقصان جوان تحریکوں کے ذریعہ امت مسلمہ کو پہنچا وہ ذہنی بگاڑ تھا۔ یہ براہ راست طور پر انہیں تحریکوں کا نتیجہ ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں دنیا کی تمام قوموں سے زیادہ جذباتی اور غیر حقیقت پسند ہو کر رہ گئے ہیں۔ کوئی تحریک جو انسانی معاشرہ میں اٹھے ، ضروری نہیں کہ وہ اپنے مقررہ عملی نشانہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو۔ تاہم عملی نتیجہ نہ پیدا کر کے بھی وہ ایک نتیجہ لازماً پیدا کرتی ہے، اور وہ فکری نتیجہ ہے۔ ہر تحریک کم از کم اپنے متاثر ہونے والوں میں، سوچنے کا ایک ڈھنگ، رائے قائم کرنے کا ایک طریقہ، معاملات کے بارے میں فیصلہ کا ایک ذہن دیتی ہے۔ اس لئے کسی تحریک کی قدر و قیمت کو اس اعتبار سے متعین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عملی طور پر اپنی مقررہ منزل تک پہنچی یا نہیں۔ بلکہ کسی تحریک کی قدر و قیمت کو جانچنے کا اصلی معیار یہ ہے کہ اس نے جن افراد کو متاثر کیا ان کے اندر اس نے کس قسم کا فکری مزاج پیدا کیا۔ اس اعتبار سے موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے قوم کی قوم کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے مفکرین و مصلحین کا ایک طبقہ وہ ہے جس کا تمام تر سرمایہ بڑے بڑے الفاظ تھے۔ اس نے شاعرانہ ترنگوں، جوشیلی تقریروں اور خطیبانہ تحریروں کے ذریعہ اپنی تحریکیں چلائیں۔ الفاظ کے زور پر واقعات بتا دینا نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ ان تحریکوں نے قوم کے افراد کو صرف جذباتی بنانے میں مدد دی۔ لوگ الفاظ کو واقعہ کا بدل سمجھنے لگے۔ حقیقت پسندانہ طرز فکران سے رخصت ہوگیا۔ خیال آرائیوں سے وہ اُس نتیجہ کی امید کرنے لگے جو اس دنیا میں صرف حقیقی عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ دوسری طرف نہ مفکرین تھے جو خود بھی غلو کا شکار ہوئے اور اپنے افکار سے دوسرے بہت سے لوگوں کو غلو کا شکار کیا۔ وہ سیاسی کارروائیوں کے ذریعہ ملت کا مستقبل برآمد کرنا چاہتے تھے۔ مگر ان کی غلو پسندی صرف سیاسی عمل پر قانع نہ ہوئی۔ انھوں نے اپنے سیاسی عمل کو جائز ثابت کرنے کے لئے پورا سیاسی فلسفہ بنایا، حتی کہ خود قرآن و اسلام کو سیاسی بنا ڈالا۔ جو لوگ اس فکر سے متاثر ہوئے ان کے لئے خدا کا دین ایک قسم کا سیاسی نظریہ بن کر رہ گیا۔ وہ بطور خود یہ سمجھتے رہے کہ انھوں نے مکمل اسلام کو پالیا ہے۔ حالانکہ انھوں نے جس اسلام کو پایا اس میں سب کچھ تھا مگر وہی چیز نہ تھی جو اسلام کا اصل مقصود ہے۔ تعلق باللہ اور خوف آخرت۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page