Al-Risala · February 1980 · page 19

یہ خوش خیال مفکرین

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹

تذکیر القرآن البقرہ ۲ کیا تم نے اس کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں حجت کی۔ کیوں کہ اللہ نے اس کو سلطنت دی تھی۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ میں یہی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ اللہ سورج کو پورب سے نکولتا ہے تم اس کو پچھم سے نکال دو۔ تب وہ منکر حیران رہ گیا۔ اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا موجودہ زمانہ میں عوامی تائید سے حکومت کا استحقاق حاصل ہوتا ہے۔ مگر جمہوریت کے دور سے پہلے اکثر بادشاہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ خدا کا انسانی پیکر ہیں۔ قدیم عراق کے بادشاہ نمرود کا معاملہ بھی تھا جو حضرت ابراہیم کا ہم عصر تھا۔ اس کی قوم سورج کو دیوتاؤں کا سردار مانتی تھی۔ اور اس کی پوجا کرتی تھی۔ نمرود نے کہا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے، اس لئے وہ لوگوں کے اوپر حکومت کرنے کا خدائی حق رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے اس وقت کے عراق میں جب توحید کی آواز بلند کی تو اس کا سیاست و حکومت سے براہ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ آپ لوگوں سے صرف یہ کہہ رہے تھے کہ تمھارا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے۔ کوئی نہیں جو خدائی میں اس کا شریک ہو۔ اس لئے تم اسی کی عبادت کرو۔ اسی سے ڈرو اور اسی سے امیدیں قائم کرو۔ تاہم اس غیر سیاسی دعوت میں نمرود کو اپنی سیاست پر زد پڑتی ہوئی نظر آئی۔ ایسا عقیدہ جس میں سورج کو ایک بے زور بندہ بتایا گیا ہو وہ گویا اس اعتقادی بنیاد ہی کو ڈھا رہا تھا جس کے اوپر نمرود نے اپنا سیاسی تخت بچھا رکھا تھا۔ اس وجہ سے وہ آپ کا دشمن ہو گیا۔

حضرت ابراہیم نے نمرود سے جو گفتگو کی اس سے انبیار کا طریق دعوت معلوم ہوتا ہے۔ نمرود کے سوال کے جواب میں آنجناب نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے۔ نمرود نے مناظرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موت اور زندگی پر تو میں بھی اختیار رکھتا ہوں۔ جس کو چاہوں مروادوں اور جس کو چاہوں زندہ رہنے دوں۔ آنجناب نمرود کا جواب دے سکتے تھے۔ مگر آپ نے گفتگو کو مناظرہ بنانا پسند نہ کیا، اس لئے آپ نے فوراً دوسری مثال پیش کر دی جس کے جواب میں نمرود اس قسم کی بات نہ کہہ سکتا تھا جو اس نے پہلی مثال کے جواب میں کہی۔ حضرت ابراہیم کے لئے نمرود حریف نہ تھا بلکہ دعوکی حیثیت رکھتا تھا اس لئے ان کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ استدلال کا کون سا حکیمانہ انداز ان کا اختیار کرنا چاہئے ۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لئے اس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ایک ہی چیز کو آدمی دو مختلف معنوں میں لے۔ مثلاً ایک شخص کے پاس دولت اقتدار آ جائے تو وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھ سکتا ہے کہ اس کی کامیابی اس کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ نظر آئے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھے کہ اس کو محسوس ہو کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ سراسر خدا کا انعام ہے۔ پہلی صورت ظلم کی صورت ہے اور دوسری شکر کی صورت۔ جس شخص کے اندر ظالمانہ مزاج ہو اس کے لئے موجودہ دنیا صرف گمراہی کی خوراک ہوگی۔ اس کو ہر واقعہ میں گھمنڈ اور خود پسندی کی غذا ملے گی۔ اس کے برعکس جس کے اندر شکر کا مزاج ہوگا، اس کے لئے ہر واقعہ میں ہدایت کا سامان ہوگا۔ خدا کی دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اس کے لئے رزق ایمانی کا دستر خوان بن جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page