یہ خوش خیال مفکرین
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰
تذکیر القرآن البقرہ ۲ یا جیسے وہ شخص جس کا گزر ایک بستی پر سے ہوا۔ اور وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی تھی۔ اس نے کہا: ہلاک ہو جانے کے بعد اللہ اس بستی کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا۔ پھر اللہ نے اس پر سو برس تک کے لیے موت طاری کر دی ۔ پھر اس کو اٹھایا۔ اللہ نے پوچھا تم کتنی دیر اس حالت میں رہے۔ اس نے کہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم۔ اللہ نے کہا نہیں بلکہ تم سو برس رہے ہو۔ اب تم اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ وہ سڑی نہیں ہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو۔ اور تاکہ ہم تم کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیں۔ اور ہڈیوں کی طرف دیکھو، کس طرح ہم ان کا ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں۔ پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پس جب اس پر واضح ہو گیا تو کہا میں جانتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، مجھ کو دکھادے کہ تو مُردوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔ اللہ نے کہا، کیا تم نے یقین نہیں کیا۔ ابراہیم نے کہا کیوں نہیں ، مگر اس لیے کہ میرے دل کو تسکین ہو جائے۔ فرمایا تم چار پرندے لو اور ان کو اپنے سے ہلا لو۔ پھر ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ پہاڑی پر رکھ دو، پھر ان کو بلاؤ۔ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ اور جان لو کہ اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے ۔ ۲۵۹-۲۶۰ یہاں موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے جن دو تجربات کا ذکر ہے ان کا تعلق انبیاء سے ہے۔ پہلا تجربہ غالباً حضرت عزیرؓ کے ساتھ گزرا جن کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ اور دوسرا تجربہ حضرت ابراہیمؑ سے تعلق رکھتا ہے جن کا زمانہ ۱۹۸۵۔ ۲۱۶۰ ق م کے درمیان ہے۔ انبیاء خدا کی طرف سے اس لئے مقرر ہوتے ہیں کہ لوگوں کو غیبی حقائق سے باخبر کریں، اس لئے ان کو وہ غیبی چیزیں بے پردہ کر کے دکھائی جاتی ہیں جن پر دوسروں کے لئے اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ انبیاء کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اس لئے ہوتا ہے تاکہ وہ ان چیزوں کے ذاتی مشاہدہ بن کر ان کی بابت لوگوں کو باخبر کر سکیں۔ وہ لوگوں کو جن غیبی حقیقتوں کی خبر دیں ان کے متعلق کہہ سکیں کہ ہم ایک دیکھی ہوئی چیز سے تم کو خبر دار کر رہے ہیں نہ کہ محض سنی ہوئی چیز سے۔
انبیاء کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی جاتی ہے۔ نبوت سے پہلے ان کی پوری زندگی لوگوں کے سامنے اس طرح گزرتی ہے کہ ان سے کسی شخص کو جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تقریباً نصف صدی تک ماحول کے اندر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دینے کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو لوگوں کے سامنے ان غیبی حقیقتوں کے اعلان کے لئے کھڑا کرے جن کو آزمائش کی مصلحت کی بنا پر لوگوں سے چھپا دیا گیا ہے۔ ماحول کے یہ سب سے زیادہ سچے لوگ ایک طرف اپنے مشاہدہ سے لوگوں کو باخبر کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف عقل اور فطرت کے شواہد سے اس کو مدلل کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ انبیاء کو ہمیشہ شدید ترین حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنے قول سے پھرتے نہیں وہ انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ اپنی بات پر جمے رہتے ہیں۔ اس طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، اس میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ فرضی طور پر انہوں نے کوئی بات نہیں گھڑی ہے۔ کیوں کہ گھڑی ہوئی بات کو پیش کرنے والا کبھی اتنے سخت حالات میں اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور نہ اس کی بات خارجی کائنات سے اتنا زیادہ مطابق ہو سکتی ہے کہ وہ سراپا اس کی تصدیق بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues