یہ خوش خیال مفکرین
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱
رہب کے پاس ان اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے ستانا ہو۔ اور اللہ بے نیاز ہے، تحمل والا ہے۔ اے ایمان والو احسان رکھ کر اورستا کر اپنے صدقہ کو ضائع نہ کرو، جس طرح وہ شخص جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ پس اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینہ پڑے اور اس کو بالکل صاف کر دے۔ ایسے لوگوں کو اپنی کمائی کا کچھ بھی ہاتھ نہ لگے گی۔ اور اللہ منکروں کو راہ نہیں دکھاتا۔ ۴ - ۲۶۱ ہر عمل جو آدمی کرتا ہے وہ گویا ایک بیج ہے جو آدمی "زمین" میں ڈالتا ہے۔ اگر اس کا عمل اس لئے تھا کہ لوگ اسے دیکھیں تو اس نے اپنا بیج دنیا کی زمین میں ڈالا تاکہ یہاں کی زندگی میں اپنے کئے کا پھل پاسکے۔ اور اگر اس کا عمل اس لئے تھا کہ اللہ اس کو دیکھے" تو اس نے آخرت کی زمین میں اپنا بیج ڈالا جو اگلی دنیا میں اپنے پھول اور پھل کی بہاریں دکھائے۔ دنیا میں ایک دانہ سے ہزار دانے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی حال آخرت کے کھیت میں دانہ ڈالنے کا بھی ہے۔ دنیا کے فائدہ یا دنیا کی شہرت و عزت کے لئے خرچ کرنے والا اسی دنیا میں اپنا معاوضہ لینا چاہتا ہے۔ ایسے آدمی کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ مگر جو شخص اللہ کے لئے خرچ کرے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی پر احسان نہیں جتاتا، اس نے جب اللہ کے لئے خرچ کیا ہے تو انسان پر اس کا کیا احسان۔ اس کی رقم خرچ ہو کر جن لوگوں تک پہنچتی ہے ان کی طرف سے اس کو اچھا جواب نہ ملے تو وہ ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کو تو اچھا جواب اللہ سے لینا ہے، پھر انسانوں سے ملنے یانہ ملنے کا اسے کیا غم۔ اگر کسی سائل کو وہ نہیں دے سکتا تو وہ اس سے برا کلمہ نہیں کہتا۔ بلکہ نرمی کے ساتھ معذرت کر دیتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے خدا کے سامنے بول رہا ہے۔ خدا کا خوف اس کو انسان کے سامنے زبان روکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
پتھر کی چٹان کے اوپر کچھ مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی۔ مگر بارش کا جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپر ی تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پتھر نکل آئے گا۔ ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری لئے ہوئے ہو۔ دین اس کے اندر تک داخل نہ ہوا ہو۔ ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز سے سوال کر دے یا کسی کی طرف سے ذراسی بات سامنے آجائے، تو اس کی شرافت لگانے والی مورتی ٹوٹ کر وہ پھر سے انصاف کی حدود کو توڑ دیتا ہے۔ ایسا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues