یہ خوش خیال مفکرین
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۲
البقرہ ۲ تذکیر القرآن اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال کو اللہ کی رضا چاہنے کے لئے اور اپنے نفس میں پختگی کے لئے خرچ کرتے ہیں ایک باغ کی طرح ہے جو بلنوی پر ہو۔ اس پر زور کا مینہ پڑا تو وہ دونا پھل لایا۔ اور اگر زور کا مینہ نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی کافی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں ۔ اس میں اس کے واسطے ہر قسم کے پھل ہوں۔ اور وہ بوڑھا ہو جائے اور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں، تب اس باغ پر ایک بگولہ آئے جس میں آگ ہو۔ پھر وہ باغ جل جائے۔ اللہ اس طرح تمہارے لئے کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو ۔ ۲۶۵ - ۲۷۲ آدمی جب کسی چیز کے لیےعمل کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس کے حق میں اپنی قوت ارادی کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی خواہش کے تحت عمل کرے تو اس نے اپنے دل کو اپنی خواہش پر جمایا۔ اس کے برعکس آدمی اگر وہاں عمل کرے جہاں خدا چاہتا ہے کہ عمل کیا جائے تو اس نے اپنے دل کو خدا پر جمایا۔ دونوں راہوں میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی آسان حالات میں عمل کرنا ہوتا ہے اور کبھی مشکل حالات میں ۔ تاہم مواقع جتنے شدید ہوں، آدمی کو جتنا زیاوہ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا عمل کرنا پڑے اتنا ہی زیادہ وہ اپنے پیش نظر مقصد کے حق میں اپنے ارادہ کو مستحکم کرے گا۔ عام حالات میں اللہ کی راہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے۔ مگر جب مخالف اسباب کی وجہ سے خصوصی قوت ارادی کو استعمال کرکے آدمی اللہ کی راہ میں اپنا اثاثہ دے تو اس کا ثواب اللہ کے یہاں بہت زیادہ ہے۔ جس راہ میں خرچ کرنا دنیوی اعتبار سے بے فائدہ ہو اس میں اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرنا، جس کو دینے کا دل نہ چاہے، اس کو اللہ کے لئے دینا، جس سے خوش معاملگی پر طبیعت آمادہ نہ ہو اس سے اللہ کی خاطر خوش معاملگی کرنا، دہ چیزیں ہیں جو آدمی کو سب سے زیادہ خدا پرستی پر جماتی ہیں اور اس کو خدا کی خصوصی رحمت د نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔
آدمی جوانی کی عمر میں باغ لگاتا ہے تاکہ بڑھاپے کی عمر میں اس کا پھل کھائے۔ پھر وہ شخص کیسا بدنصیب ہے جس کا ہرا بھرا باغ اس کی آخر عمر میں اس وقت برباد ہو جائے جب کہ وہ سب سے زیادہ اس کا محتاج ہو اور اس کے لئے وہ وقت بھی ختم ہو چکا ہو جب کہ وہ دوبارہ نیا باغ لگائے اور اس کو از سر نو تیار کرے۔ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جنہوں نے دین کا کام دنیوی عزت و منفعت کے لئے کیا۔ وہ بظاہر نیکی اور بھلائی کا کام کرتے رہے ۔ مگر ان کا کام صرف شکلًا ہی عام دنیا داروں سے مختلف تھا۔ باعتبارِ حقیقت دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ عام دنیا دار جس دنیوی ترقی اور ناموری کے لئے دنیوی نقشوں میں دوڑ دھوپ کر رہے تھے، اسی دنیوی ترقی اور ناموری کے لئے انھوں نے دینی نقشوں میں دوڑ دھوپ جاری کر دی۔ جو شہرت د عزت
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues