Al-Risala · February 1980 · page 23

یہ خوش خیال مفکرین

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳

اے ایمان والو خرچ کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین میں سے پیدا کیا ہے۔ اور ردی چیز کا قصد نہ کرو کہ اس میں سے خرچ کرو۔ حالاں کہ تم کبھی اس کو لینے والے نہیں الا یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ۔ اور جان لو کہ اللہ بے نیاز ہے، خوبیوں والا ہے۔ شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے اور بری بات کی تلقین کرتا ہے اور اللہ وعدہ دیتا ہے اپنی بخشش کا اور فضل کا اور اللہ وسعت والا ہے، جاننے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے حکمت دے دیتا ہے اور جس کو حکمت ملی اس کو بڑی دولت مل گئی سو ل的ت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں ۔ ۲۶۷-۲۷۹ آدمي دنیا میں جو کچھ کماتا ہے، اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس کے دل میں بٹھاتا ہے۔ وہ اس کو سکھاتا ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگاؤ۔ پھر جب شیطان دیکھتا ہے کہ آدمی کے پاس اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہے تو وہ اس کے اندر ایک اور جذبہ بھڑکا دیتا ہے۔ یہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ اب وہ اپنی دولت کو بے دریغ نمائش کا ہاموں میں بہانے لگتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کو بہترین مصرف میں لگایا۔ آدمی کو چاہئے کہ اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اللہ کی چیز سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں سے اپنی حقیقی ضرورت کے بقدر لے لے اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس کو بلند تر مقاصد میں لگائے ۔ وہ خدا کے کمزور بندوں کو دے اور خدا کے دین کی ضرورتوں میں خرچ کرے ۔ آدمی جب اللہ کے کمزور بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے اس بات کا امید واربن رہا ہوتا ہے کہ آخرت میں جب وہ خالی ہاتھ خدا کے سامنے حاضر ہو تو اس کا خدا اس کو اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرے ۔ اسی طرح جب وہ دین کی ضرورتوں میں اپنا مال دیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں شریک کرتا ہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے مال میں شامل کرتا ہے تاکہ اس کی حقیر پونجی خدا کے بڑے خزانے میں مل کر زیادہ ہو جائے۔ جو شخص اپنے مال کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق خرچ کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو حکمت و دانا نئی میں سے حصہ ملا ہے۔ سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی مال کی محبت میں مبتلا ہو اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے اور سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ اقتصادی مفادات آدمی کے لئے اللہ کی راہ میں بڑھنے میں رکاوٹ نہ بنیں ۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا ملا دے کہ خدا کو اپنا اور اپنے کو خدا کا سمجھنے لگے۔ جو شخص ذاتی مصلحتوں کے خول میں جیتا ہے اس کے اندر وہ نگاہ پیدا نہیں ہوسکتی جو بلند تر حقیقتوں کو دیکھے اور اعلیٰ کیفیات کا تجربہ کرے۔ اس کے برعکس جو شخص ذاتی مصلحتوں کو نظر انداز کر کے خدا کی طرف بڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو محدود در توں سے اوپر اٹھاتا ہے، وہ اپنے شعور کو اس خدا کے ہم سطح کر لیتا ہے جو غنی و حمید اور وسیع وعلیم ہے، وہ چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے لگتا ہے کیونکہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہو جاتا ہے جو آدمی کے لئے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page