یہ خوش خیال مفکرین
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴
تذکیر القرآن البقرہ ۲ اور تم جو خرچ کرتے ہو یا نذر مانتے ہو اس کو اللہ جانتا ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار یں۔ اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تب بھی اچھا ہے اور اگر تم انھیں چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور اللہ تمہارے گناہوں کو دور کر دے گا اور اللہ تمہارے کاموں سے واقف ہے۔ ان کو ہدایت پر لانا تمہارا ذمہ نہیں۔ بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے، اپنے ہی لئے کرو گے۔ اور تم نہ خرچ کر ومگر اللہ کی رضا چاہنے کے لئے۔ اور تم جو مال خرچ کرو گے وہ تم کو پورا کر دیا جائے گا اور تمہارے لئے اس میں کمی کی نہ جائے گی۔ صدقات ان حاجت مندوں کے لئے ہیں جو اللہ کی راہ میں گِھر گئے ہوں، زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔ نا واقف آدمی ان کو غنی خیال کرتا ہے ان کے نہ مانگنے کی مد سے۔ تم ان کو ان کی صورت سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ کو معلوم ہے۔ جو لوگ اپنے مالوں کو رات اور دن، چھپے اور کھلے خرچ کرتے ہیں، ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ خوف ہے اور نہ غمگین ہوں گے ۲۷۳-۲۷۰ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جد وجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہو گئے ہوں۔ ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لئے وقت نہیں رہتا۔ ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جد وجہد کے لئے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتا ہے۔ جو شخص تجارت میں لگتا ہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ تجارت کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستے کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں خادم دین کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو کیونکہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہو گئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کر سکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الہی کے لئے وقوع میں آتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے یکسو کیا تھا، اس لئے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ پانے کا امیدوار رہتا۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتا ہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں خدمت دین کی راہ میں وہ نہ کر سکا جو مجھے کو کرنا چاہئے تھا۔ اس لئے اس کی تلافی یہ ہے کہ میں اپنے مال میں اپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گو یا میری کمی کی تلافی خدا کے یہاں کر رہے ہیں۔
جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہو جائے ، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیر اہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے ، ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیں ہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues