Al-Risala · February 1980 · page 25

یہ خوش خیال مفکرین

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت میں نہ اٹھیں گے مگر اس شخص کی مانند جس کو شیطان نے چھو کر خبطی بنا دیا ہو۔ یہ اس لئے کہ انھوں نے کہا کہ تجارت کرنا بھی ویسا ہی ہے جیسا سود لینا۔ حالاں کہ اللہ نے تجارت کو حلال ٹھہرایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ پھر جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ وہ لے چکا وہ اس کے لئے ہے ۔ اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو شخص پھر وہی کرے تو وہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ اور اللہ پسند نہیں کرتا ناشکروں کو، گنہگاروں کو۔ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ ادا کی، ان کے لئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس ۔ ان کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ ۲۷۵ - بندوں کے درمیان باہمی طور پر جو معاشی تعلقات مطلوب ہیں ان کی علامت زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حقوق کا اعتراف - یہاں تک کرتا ہے کہ وہ خود اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اپنے بھائی کو دیتا ہے۔ جو دین حقوق شناسی کا ایسا ماحول بنانا چاہتا ہو وہ سود کے زرپرستانہ طریقہ کو کسی طرح قبول نہیں کر سکتا۔ ایسے معاشرہ میں باہمی لین دین تجارت کے اصول پر ہوتا ہے نہ کہ سود کے اصول پر۔ تجارت میں بھی آدمی نفع لیتا ہے۔ مگر تجارت کا جو نفع ہے وہ آدمی کی محنت اور اس کے خطرات مول لینے کی قیمت ہوتا ہے ۔ جب کہ سود کا نفع محض خود غرضی اور زراندوزی کا نتیجہ ہے۔ سود کا کاروبار کرنے والا اپنی دولت دوسرے کو اس لئے دیتا ہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی دولت کو مزید بڑھائے۔ نہ یہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ اس کا سرمایہ یقینی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس عمل کے دوران وہ خو د اپنے اندر جو انسان تیار کرتا ہے وہ ایک خود غرض اور دنیا پرست انسان ہے ۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنی کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے، جو دوسرے کی ضرورت مندی کو اپنے لئے تجارت کا سودا نہیں بناتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے کو شریک کرتا ہے، ایسا شخص اپنے عمل کے دوران اپنے اندر جو انسان تیار کر رہا ہے وہ پہلے سے بالکل مختلف انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے دل میں دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ جو ذاتی دائرہ سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے۔ دنیا میں آدمی اس لئے نہیں بھیجا گیا ہے کہ وہ یہاں اپنی کمائی کے ڈھیر لگائے۔ آدمی کے لئے ڈھیر لگانے کی جگہ آخرت ہے۔ دنیا میں آدمی کو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں کون ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اس کو آخرت کی جنتی دنیا میں بسایا جائے ۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے ان کو خدا جنت کا باشندہ بننے کے لئے چن لے گا۔ اور باقی تمام لوگ کوڑا کرکٹ کی طرح جہنم میں پھینک دیے جائیں گے ۔ صدقہ کی روح حاجت مند کو اپنا مال خدا کے لئے دینا ہے اور سود کی روح استحصال کے لئے دینا۔ صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی آخرت میں اپنے لئے نعمتوں کا ڈھیر دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں سود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے لئے ڈھیر لگانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دو الگ الگ انسان ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا کے یہاں دونوں کا انجام یکساں قرار پائے۔ دنیا اسی کو ملتی ہے جس نے دنیا کے لئے محنت کی ہو، اسی طرح آخرت اسی کو ملے گی جس نے آخرت کے لئے اپنے اثاثہ کو قربان کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page