Al-Risala · February 1980 · page 36

تذکیرالقرآن البقرہ2

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶

تذکیرالقرآن البقرہ2

اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کے لیے خبردار ہو جاؤ۔ اور اگر تم توبہ کر لو تو اصل رقم کے تم حق دار ہو، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔ اور اگر ایک شخص تنگی والا ہے تو اس کی فراخی تک مہلت دو۔ اور اگر معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔ اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔ پھر ہر شخص کو اس کا کیا ہوا پورا پورا مل جائے گا ۔ اور ان پر ظلم نہ ہوگا ۴۸۱ - ۲۷۸ معاشرہ کی اصلاح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاشرہ کا کوئی فرد نہ کسی دوسرے کے اوپر زیادتی کرے اور نہ دوسرا کوئی اس کے اوپر زیادتی کرے۔ نہ کوئی کسی کے اوپر ظالم بنے اور نہ کوئی کسی کو مظلوم بنائے۔ سود خواری ایک کھلا ہوا معاشی ظلم ہے، اس لیے اسلام نے اس کو حرام ٹھہرایا۔ حتی کہ اسلامی اقتدار کے تحت سودی کاروبار کو فوجداری جرم قرار دیا۔ تاہم ایک سود خوار کو جس طرح دوسرے کے ساتھ ظالمانہ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے اسی طرح کسی دوسرے کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ سود خوار کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے ۔ کسی کا مجرم ہونا اس کو اس کے دیگر حقوق سے محروم نہیں کرتا۔ سود خوار کے خلاف جب کارروائی کی جائے گی تو صرف اس کے سودی اضافہ کو ساقط کیا جائے گا۔ اپنی اصل رقم کو واپس لینے کا وہ پھر بھی حق دار ہوگا۔ تاہم عمومی قانون کے ساتھ اسلام انسانی کمزوریوں کی بھی آخری حد تک رعایت کرتا ہے۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ کوئی قرض دار اگر وقت پر تنگ دست ہے تو اس کو اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک وہ اپنے ذمہ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہو جائے۔ اسی کے ساتھ یہ تلقین بھی کی گئی کہ کوئی شخص قرض کی رقم ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو اس کے ذمہ کی رقم سرے سے معاف کر دینے کا حوصلہ پیدا کرو۔ معاف کرنے والا خدا کے یہاں اجر کا مستحق بنتا ہے اور دنیا میں اس کا یہ فائدہ ہے کہ معاشرہ کے اندر باہمی رعایت اور ہمدردی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو بالا خر سب کے لیے مفید ہے۔

تاہم صرف قانون کا نفاذ معاشرہ کی صلاح و فلاح کا ضامن نہیں۔ حقیقی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ میں تقویٰ کی فضا موجود ہو۔ اس لئے قانونی حکم بتاتے ہوئے ایمان، تقویٰ اور آخرت کا اہتمام کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ جس طرح ایک سیکولر نظام اسی وقت کامیابی کے ساتھ چلتا ہے جب کہ شہریوں کے اندر اس کے مطابق قومی کردار موجود ہو۔ اسی طرح اسلامی نظام اسی وقت صحیح طور پر وقوع میں آتا ہے جب کہ افراد کے قابل لحاظ حصہ میں تقویٰ کی روح پائی جاتی ہو۔ قومی کردار یا تقویٰ دراصل مطلوبہ نظام کے حق میں افراد کی آمادگی کا نام ہے۔ اور افراد کے اندر جب تک ایک درجہ کی آمادگی نہ ہو، محض قانون کے زور پر اس کو نافذ نہیں کیا جا سکتا۔

مزید یہ کہ اسلام کی رو سے اصلاح معاشرہ بجائے خود مطلوب چیز نہیں ہے۔ اسلام میں اصل مطلوب فرد کی اصلاح ہے معاشرہ کی اصلاح صرف اس کا ایک ثانوی نتیجہ ہے۔ قرآن جس ایمان، تقویٰ اور فکر آخرت کی طرف بلاتا ہے اس کا تحقق فرد کے اندر ہوتا ہے نہ کہ کسی اجتماعی ہیئت کے اندر۔ اس لئے قرآنی دعوت کا اصل مخاطب فرد ہے، اور معاشرہ کی اصلاح افراد کی اصلاح کا اجتماعی ظہور۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page