تذکیرالقرآن البقرہ2
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۷
اور وہ شخص لکھوائے جس پر حق آتا ہے۔ اور اللہ سے جو اس کا رب ہے اور اس میں کوئی کمی نہ کرے ۔ اور اگر وہ شخص جس پر حق آتا ہے بے سمجھ ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو چاہئے کہ اس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ کر لو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے۔ اور گواہ انکار نہ کریں جب وہ بلائے جائیں۔ اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کے تعین کے ساتھ اس کو لکھنے میں کاہلی نہ کرو۔ یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک زیاوہ انصاف کا طریقہ ہے اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قرین قیاس ہے کہ تم شبہ میں نہ پڑو۔ لیکن اگر کوئی سودا دست بدست ہو جس کا تم آپس میں لین دین کیا کرتے ہو تو تم پر کوئی الزام نہیں کہ تم اس کو نہ لکھو۔ مگر جب یہ سودا کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔ اور کسی لکھنے والے کو یا گواہ کو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہارے لیے گنہ کی بات ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرو اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن رکھنے کی چیزیں قبضہ میں دے دی جائیں۔ اور اگر ایک دوسرے کا اعتبار کرتا ہو تو چاہئے کہ جس پر اعتبار کیا گیا وہ اعتبار کو پورا کرے۔ اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو شخص چھپائے گا اس کا دل گناہ گار ہوگا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس کو جاننے والا ہے۔ ۲۸۳ ۔ ۲۸۲ دو آدمیوں کے درمیان نقد معاملہ ہو تو لین دین ہو کر اسی وقت معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ مگر ادھار معاملات کی نوعیت مختلف ہے۔ ادھار معاملہ میں اگر ساری بات زبانی ہو تو کاغذی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بعد کو اختلاف پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ ہے۔ طرفین اپنے اپنے مطابق معاملہ کی تصویر پیش کرتے ہیں اور کوئی ایسی قطعی بنیاد نہیں ہوتی جس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کیا جاسکے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادائیگی کے وقت اکثر دونوں کو ایک دوسرے سے شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس کا حل تحریر ہے۔ نقد معاملہ کو لکھ لیا جائے تو وہ بھی بہتر ہے۔ مگر ادھار معاملات کے لئے تو ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ تحریر میں لایا جائے اور اس پر گواہ بنائے جائیں۔ اختلاف کے وقت یہی تحریر فیصلہ کی بنیاد ہوگی۔ یہ مسلمان کے لئے تقویٰ اور عدل کی ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ کتابت شدہ شرائط کے مطابق دہ اپنے حقوق کو ادا کر کے خدا اور خلق کے سامنے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ مسلمان خدا کے دین کے گواہ ہیں۔ جس طرح اللہ کی بات کو جانتے ہوئے چھپانا جائز نہیں، اسی طرح انسانی معاملات میں کسی کے پاس کوئی گواہی ہو تو اس کو چاہئے کہ اس کو ظاہر کر دے۔ گواہی کو چھپانا اپنے اندر مجرمانہ ذہن کی پرورش نہ کرناہے اور معاملہ کے منصفانہ فیصلہ میں وہ حصہ ادا کرنا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔ انسان کا ضمیر چاہتا ہے کہ جب ایک چیز حق نظر آئے تو اس کے حق ہونے کا اعتراف کیا جائے ۔ اور جب ایک چیز ناحق دکھائی دے تو اس کے ناحق ہونے کا اعلان کیا جائے۔ ایسی حالت میں جو شخص اپنے وقار اور مصلحت کی خاطر اپنی زبان کو بند رکھتا ہے وہ گویا ایسا مجرم ہے جو اپنے جرم پر خود ہی گواہ بن گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues