تذکیرالقرآن البقرہ2
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۸
لایا ہے اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر اترا ہے۔ اور مسلمان بھی اس پر ایمان لائے ہیں۔ سب ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق یں کرتے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا۔ ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب۔ اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ نہ اللہ کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت کے مطابق ۔ اس کو ملے گا وہی جو اس نے کمایا اور اس پر پڑے گا وہی جو اس نے کیا۔ اے ہمارے رب ہم کو نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا ہم غلطی کر جائیں۔ اے ہمارے رب ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اے ہمارے رب ہم سے وہ نہ اٹھوا جس کی طاقت ہم کو نہیں۔ اور درگزر کر ہم سے۔ اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر۔ تو ہمارا کارساز ہے۔ پس انکار کرنے والوں کے مقابل میں ہماری مدد کر کائنات کی ہر چیز اللہ کے زیر حکم ہے۔ ذرہ سے لے کر ستاروں تک سب خدا کے مقررہ نقشہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ وہ اسی راستہ پر چل رہے ہیں جس پر چلنے کے لئے خدا نے ان کو پابند کر دیا ہے۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے کو خودمختار حالت میں پاتا ہے۔ بظاہر وہ آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے، مگر انسان کی آزادی مطلق نہیں ہے بلکہ امتحان کے لئے ہے۔ انسان کو بھی کائنات کے بقیہ اجزار کی طرح خدا کی پابندی کرنی ہے۔ جس پابند زندگی کو بقیہ کائنات نے بزور اختیار کیا ہے وہی پابند زندگی انسان کو اپنے ارادہ سے اختیار کرناہے۔ انسان کو ظاہری صورت حال سے دھوکا کھا کر یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت مالک کائنات کی نظر میں ہے ، وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی بات کی نگرانی کر رہا ہے خواہ وہ اس کے اندر ہو یا اس کے باہر۔ وہ کون سا انسان ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ وہ ایمان اور اطاعت والا انسان ہے۔ ایمان سے مراد آدمی کی شعوری خوانگی ہے اور اطاعت سے مراد اس کی عملی خوانگی شعور کے اعتبار سے مطلوب ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے اپنے اندر اتارے۔ وہ اس حقیقت کو پا گیا ہو کہ کائنات کا نظام کوئی بے روح مشینی نظام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ نظام ہے جس کو خدا اپنے فرماں بردار کارندوں کے ذریعہ چلا رہا ہے۔ اس نے خدا کے بندوں میں سے ان بندوں کو پہچان لیا ہو جن کو خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے چنا۔ خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لئے جو کتاب اتاری ہے اس کو وہ حقیقی معنوں میں اپنے فکر و خیال کا جزو بنا چکا ہو رسالت اور پیغمبری اس کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مسلسل واقعہ کی صورت میں نظر آ کر کائنات کو اس طرح اپنے داروغہ گم سمٹھا لینے کے بعد وہ اپنی زندگی کا ہر قدم اس کے نقشہ پر ڈھال رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues