Al-Risala · February 1980 · page 29

تذکیرالقرآن البقرہ2

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹

تذکیر القرآن آل عمران ۳ آیاتہا ۲۰۰ سورہ آل عمران مدنیۃ - ۳ رکوعاتها ۲۰ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الف ل م۔ اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زنوہ اور سب کا تھامنے والا۔ اس نے تم پر کتاب اتاری حق کے ساتھ، سچا کرنے والی اس چیز کو جو اس کے آگے ہے اور اس نے تورات اور انجیل اتاری اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے اور اللہ نے فرقان اتارا۔ بے شک جن لوگوں نے اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ زبر دست ہے، بدلہ لینے والا ہے۔ بے شک اللہ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ وہی تمہاری صورت بناتا ہے ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زبر دست ہے، حکمت والا ہے ۶-۱ کائنات کا خالق و مالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لئے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات و انجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل و تشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لئے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کیا جا سکے ۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا۔ اپنی جھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئے۔ اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبار سے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کر سکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طور پر بتا سکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے۔ یہی معاملہ انسان کے لئے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور دہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لئے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لئے صحیح رویہ وہی ہو سکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لئے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کر سکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خدا کے سوا کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔ انسان کے لئے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page