Al-Risala · February 1980 · page 30

تذکیرالقرآن البقرہ2

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰

رہی ہے جس نے تمھارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں بعض آیتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں فتنہ کی تلاش میں اور اس کے مطلب کی تلاش میں۔ حالاں کہ ان کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ اے ہمارے رب، ہمارے دلوں کو نہ پھیر جب کہ تو ہم کو ہدایت دے چکا۔ اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت دے۔ بے شک تو ہی سب کچھ دینے والا ہے۔ اے ہمارے رب، تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن جس میں کوئی شبہ نہیں۔ بے شک اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا قرآن میں دو طرح کے مضامین ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی معلوم دنیا سے متعلق ہیں، مثلاً تاریخی واقعات، کائنات کی نشانیاں، دنیوی زندگی کے احکام وغیرہ۔ دوسرے وہ جن کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جو آج کے انسان کے لئے ناقابل ادراک ہیں۔ مثلاً خدا کی صفات، جنت دوزخ کے احوال، وغیرہ۔ پہلی قسم کی باتوں کو قرآن میں محکم انداز، بالفاظ دیگر براہ راست اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری قسم کی باتیں انسان کی نامعلوم دنیا سے متعلق ہیں، وہ انسانی زبان کی گرفت میں نہیں آتیں۔ اس لئے ان کو متشابہ انداز یعنی تمثیل و تشبیہ کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً انسان کا ہاتھ کہا جائے تو یہ براہ راست زبان کی مثال ہے اور اللہ کا ہاتھ تمثیلی زبان کی مثال۔ جو لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ متشابہ آیتوں کا مفہوم بھی اسی طرح متعین کرنے لگتے ہیں جس طرح محکم آیتوں کا مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے فطری دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش ہے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی ہمیشہ بھٹکتا رہے اورکبھی منزل پر نہ پہنچے۔ کیوں کہ "انسان کے ہاتھ" کو متعین طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر "خدا کے ہاتھ" کو موجودہ عقل کے ساتھ متعین طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ متشابہات کے سلسلہ میں صحیح علمی وعقلی موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت کا اعتراف کرے۔ جن باتوں کو وہ متعین صورت میں اپنے حواس کی گرفت میں نہیں لاسکتا ان کے مجمل تصور پر قناعت کرے۔ جب حواس کی محدودیت کی وجہ سے انسان کے لئے ان حقائق کا کلی احاطہ ممکن نہیں تو حقیقت پسندی یہ ہے کہ ان امور میں تعینات کی بحث نہ چھیڑی جائے۔ اس کے بجائے اللہ سے دعا کرنا چاہئے کہ وہ آدمی کو اس قسم کی بے نتیجہ بحثوں سے بچائے۔ وہ آدمی کو ایسی عقل سلیم دے جو اپنے مقام کو پہچانے اور ان حقائق کے مجمل یقین پر راضی ہو جائے۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب کہ یہ حقیقتیں اپنی تفصیلی صورت میں کھل کر سامنے آجائیں مگر آدمی جب تک امتحان کی دنیا میں ہے ایسا ہونا ممکن نہیں۔

جس طرح راستہ کی پھسلن ہوتی ہے اسی طرح عقل کے سفر کی بھی پھسلن ہے۔ اور عقل کی پھسلن یہ ہے کہ کسی معاملہ کو آدمی اس کے صحیح رخ سے نہ دیکھے۔ کسی چیز کی حقیقت آدمی اسی وقت سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کو اس رخ سے دیکھے جس رخ سے اس کو دیکھنا چاہئے۔ وہ کسی اور رخ سے دیکھنے لگتا ہے عین ممکن ہے کہ وہ صحیح رائے قائم نہ کر سکے اور غلط فہمیوں میں پڑ کر رہ جائے جیسا کہ آگے سے کوئی رہنمائی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page