امتحان کس بات کا
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۴۸
لے کر اٹھتا ہے تو یہ نفسیات مدد کرتی ہے اور لوگ بآسانی اس کے گرد جمع ہو جاتے میں۔ یہی وجہ ہے کہ "ظلم" کو مٹانے کے نام پر جتنی تیزی سے اتحاد قائم ہوتا ہے، "عدل" کو قائم کرنے کے وقت وہ اتنی ہی تیزی سے ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کو گرانے کے لئے اٹھنا غیر حکومتی نفسیات کے تحت اٹھنا ہے۔ ایسی تحریکیں اٹھانا زمین میں فساد برپا کرنا ہے نہ کہ اصلاح اور انصاف قائم کرنا۔ بے دینی کو اگر دین کا نام دے دیا جائے تو محض نام کی وجہ سے وہ دین داری نہیں ہو جائے گی۔
ابلیس کو انسان کے اوپر کوئی اقتدار حاصل نہیں۔ اس کے بہکانے کا طریقہ تزئین (حجر ۳۹) ہے۔ یعنی غلط روش کو صحیح بنا کر دکھانا۔ اسی تدبیر کے ذریعہ وہ رات دن اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ انسان کو اپنا ہم مسلک بنائے۔ ہر وہ موقع جہاں حق کا تقاضا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے سامنے "جھک" جائے، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اپنے مقابلہ میں دوسرے کی صداقت کا اعتراف کرلے ، بس وہیں ابلیس آجاتا ہے اور آدمی کی نفسیات میں داخل ہو کر اس کو اکسانے لگتا ہے کہ وہ فرشتوں والی روش پر نہ جائے اور اس کی اپنی روش کو اختیار کرلے۔ وہ "جھکنے" کے بجائے انکار کا طریقہ اختیار کرے۔ انسانی تعلقات کی تمام برائیاں خواہ وہ خاندان کے اندر ہوں یا خاندان سے باہر، ہمیشہ کسی نہ کسی شکایت پر شروع ہوتی ہے۔ ایک خلاف مزاج بات آدمی کے سامنے آتی ہے اور اس پر وہ بھڑک اٹھتا ہے۔ ہر ایسے موقع پر ایک طرف خالص حق کا تقاضا ہوتا ہے اور دوسری طرف انانیت اور بے انصافی کا۔ مگر آدمی حق کے تقاضے کو نظر انداز کردیتا ہے اور اپنے بھائی کا عدو (دشمن) بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
موجودہ دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہی ہے۔ اسی قسم کے معاملات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ کون وہ تھا جو فرشتوں کی راہ پر چلا اور کون تھا جس نے ابلیس کے طریقہ کو اختیار کیا۔ کس نے ابدی جنت کا استحقاق پیدا کیا اور کون اس کا مستحق ٹھہرا کہ اس کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں دھکیل دیا جائے ۔ جب بھی ایسا کوئی معاملہ پیش آتا ہے ، اس وقت ایک روش وہ ہوتی ہے جو حق کے مطابق ہے۔ دوسری وہ ہوتی ہے جو ضد، نفرت، انانیت، خود غرضی اور انتقام جیسے جذبات سے ابھرتی ہے ۔ دوبارہ وہ وقت آجاتا ہے جب کہ ایک شخص کی زندگی میں اس تاریخ کو دہرایا جائے جو تخلیق آدم کے وقت پیش آئی تھی ۔ ایسے موقع پر خدا اپنے نبیوں کے ذریعہ بھیجی ہوئی ہدایت کی زبان میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ "اے بندے حق کے آگے جھک جا! دوسری طرف شیطان اس کو ورغلا رہا ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ انانیت والے اس طریقے کو اختیار کرے جو خود اس نے تخلیق آدم کے وقت اختیار کیا تھا۔ ساری انسانی تاریخ اسی دو طرفہ مکش کش کی داستان ہے۔ ہر شخص خواہ وہ امیر ہو یا غریب، جاہل ہو یا عالم، لیڈر ہو یا پیرو، عورت ہو یا مرد، سب اسی دو طرفہ پکار کے درمیان کھڑے ہوئے ہیں۔ کسی کے لئے یہ آزمائش روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں پیش آتی ہے اور کسی کے لئے بڑے قابل ذکر واقعات ہیں۔ کوئی اپنے پڑوسی، اپنے رشتہ دار، اپنے کرایہ دار، اپنے شریک تجارت کے مقابلہ میں اس امتحان میں کھڑا کیا جاتا ہے اور کوئی قوموں اور حکومتوں کے مقابلہ میں۔ ہر بار جب ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کسی معاملہ پر عداوت ابھرتی ہے تو اس امتحان کا وقت آجاتا ہے۔ اس وقت جو آدمی حق کے آگے "جھکنے" کی روش اختیار کرے، وہ فرشتوں کا ساتھی بنا اور جو شخص انانیت کے طریقے پر چلے وہ ابلیس کی برادری میں شامل ہوگیا۔ ایک کے لئے ابدی جنت ہے اور دوسرے کے لئے ابدی جہنم۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues